حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 552
حیات احمد ۵۵۲ جلد چهارم تھی اور خاص اس سازش کے متعلق تین ماہ قبل یہ الہامات ہوئے۔۲۹ / جولائی ۱۸۹۷ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک صاعقہ مغرب کی طرف سے میرے مکان کی طرف چلی آتی ہے اور نہ اُس کے ساتھ کوئی آواز ہے اور نہ اُس نے کوئی نقصان کیا ہے بلکہ وہ ایک ستارہ روشن کی طرح آہستہ حرکت سے میرے مکان کی طرف متوجہ ہوئی ہے۔اور میں اُس کو دور سے دیکھ رہا ہوں۔اور جبکہ وہ میرے قریب پہنچی تو میرے دل میں تو یہی ہے کہ یہ صاعقہ ہے مگر میری آنکھوں نے صرف ایک چھوٹا سا ستارہ دیکھا جس کو میرا دل صاعقہ سمجھتا ہے۔پھر بعد اس کے میرا دل اس کشف سے الہام کی طرف منتقل کیا گیا اور مجھے الہام ہوا کہ مَا هَذَا إِلَّا تَحْدِيدُ الْحُكّامِ یعنی یہ جو دیکھا ہے، اس کا بجز اس کے کچھ اثر نہیں کہ حکام کی طرف سے کچھ ڈرانے کی کارروائی ہوگی اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا۔پھر بعد اس کے الہام ہوا۔قَدِ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ ،، ترجمہ۔سومومنوں پر ایک ابتلا آیا۔یعنی بوجہ اس مقدمہ کے تمہاری جماعت ایک امتحان میں پڑے گی۔پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا کہ۔لَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ مِنْكُمْ وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ یہ میری جماعت کی طرف خطاب ہے کہ خدا نے ایسا کیا تا خدا تمہیں جتلا دے کہ تم میں سے وہ کون ہے کہ اس کے مامور کی راہ میں صدق دل سے کوشش کرتا ہے اور وہ کون ہے جو اپنے دعوی بیعت میں جھوٹا ہے۔سوایسا ہی ہوا۔ایک گروہ تو اس مقدمہ اور دوسرے مقدمہ میں جو مسٹر ڈوئی صاحب کی عدالت میں فیصلہ ہوا صدق دل سے اور کامل ہمدردی سے تڑپتا پھرا اور انہوں نے اپنی مالی اور جانی کوششوں میں فرق نہیں رکھا اور دکھ اٹھا کر اپنی سچائی دکھلائی۔اور دوسرا گروہ وہ بھی تھا کہ ایک ذرہ