حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 550 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 550

حیات احمد ۵۵۰ جلد چهارم ہے آخر وہ ایسے آئے کہ پھر یہاں ہی کے ہو گئے۔اور آج مقبرہ بہشتی میں آرام فرما ہیں۔حضرت میر ناصر نواب صاحب کا مقام بہت بلند ہے اور جماعت کے چھوٹے بڑے سب جانتے ہیں۔میں نے ان کی لائف حیات ناصر کے نام سے شائع کر دی ہے۔الْحَمْدُ لِله کہ مجھے اپنے بزرگ بھائیوں کے ذکر کی ایک بار اور توفیق ملی۔رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِيْنَ دوسرا جنگ مقدس اور اسلام کی فتح ۱۸۹۷ء کے واقعات عظیمہ میں سے دوسرا جنگ مقدس بھی ہے اس سے مراد وہ مقدمہ ہے جو ڈاکٹر کلارک نے حضرت اقدس کے خلاف فوجداری عدالت میں دائر کیا تھا۔اس مقدمہ کا یہ نام میں نے تجویز کیا تھا جب کہ میں اس کی ہر پیشی کی روئداد با قاعدہ شائع کرتا تھا اور ہر روئداد پر ایک انٹروڈکٹری نوٹ بھی لکھتا تھا۔ڈاکٹر مارٹن کلارک کو مباحثہ میں علمی اور بالآخر جو روحانی شکست ہوئی تھی۔اُس کا زخم اُس کے قلب میں ناسور بن چکا تھا اور اس مباحثہ کے اصل مرتد محرک عیسائی بھی اپنی ندامت کا انتقام لینا چاہتے تھے اس اثناء میں پنڈت لیکھرام کا قتل ہوا۔اور حضرت اقدس کی پیشگوئی کے پورا ہونے پر ایک عام ہلچل پیدا ہوئی اور اتفاق ایسا ہوا کہ عبدالحمید نامی ایک نو جوان جو حضرت مولوی برہان الدین صاحب جہلمی کا بھتیجا تھا۔اور آوارہ گرد اور او باش طبیعت کا تھا۔اپنی بداطواریوں کے لئے کبھی عیسائی ہو جاتا کبھی کوئی اور رنگ بدلتا۔وہ قادیان گیا اور چونکہ اس نے حضرت مولوی برہان الدین صاحب کا برادر زادہ ہونے کا اظہار کیا۔حضرت حکیم الامت اپنی فطری شفقت و ہمدردی کی وجہ سے اُس سے بہ ملاطفت پیش آئے اور اس کی درخواست پر بیعت کے لئے پیش کیا۔حضرت اقدس کے نور فراست نے بیعت لینے سے انکار کر دیا۔اس طرح پر وہ نامراد ہوکر قادیان سے چلا گیا۔اور کچھ عرصہ کے بعد اپنے اخلاص کے اظہار کے طور پر پھر قادیان آیا اس وقت حُسنِ اتفاق سے حضرت مولوی برہان الدین صاحب بھی