حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 544
حیات احمد ۵۴۴ قادیان میں اسکول اور اخبار کا اجراء جلد چهارم چونکہ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود اور آپ کی جماعت کے خلاف مخالفت کی رو بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی تھی اور دوسری طرف خدا کے فضل سے جماعت بھی آہستہ آہستہ ترقی کر رہی تھی اس لئے ۱۸۹۸ء میں حضرت مسیح موعود کے منشاء اور مشورہ کے ماتحت جماعت میں دو نئے کاموں کا اضافہ ہوا۔یعنی ایک تو جماعت کے بچوں کے لئے قادیان میں ایک مدرسہ کی بنیاد رکھی گئی تا کہ جماعت کے بچے دوسرے سکولوں کے زہر آلود ماحول میں تعلیم پانے کی بجائے اپنے ماحول میں تعلیم پائیں اور بچپن سے ہی اسلام اور احمدیت کی تعلیم کو اپنے اندر جذب کر سکیں یہ وہی مدرسہ ہے جو اس وقت تعلیم الاسلام ہائی اسکول کی صورت میں قائم ہے یہ مدرسہ سرکاری محکمہ تعلیم سے ملحق تھا اور اب بھی ہے مگر اس میں دینیات کا کورس زیادہ کیا گیا تھا جس میں قرآن شریف اور سلسلہ کی کتب شامل تھیں اور بڑی غرض یہ تھی کہ بچوں کی تربیت احمدیت کے ماحول میں ہو سکے اور جماعت کے نو نہال حضرت مسیح موعود اور جماعت کے پاک نفس بزرگوں کی صحبت میں رہ کر اپنے اندر اسلام اور احمدیت کی حقیقی روح پیدا کر سکیں۔سو الْحَمْدُ لِلہ کہ مدرسہ نے اس غرض کو بصورت احسن پورا کیا ہے۔یہ مدرسہ پرائمری کی جماعت سے شروع ہوا تھا اور حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ہی ہائی معیار تک پہنچ گیا۔اور سلسلہ کے بہت سے مبلغ اور دوسرے ذمہ دار کارکن اسی مدرسہ کے فارغ التحصیل ہیں۔مدرسہ کے انتظام کے لئے حضرت مسیح موعود نے ایک کمیٹی مقرر فرما دی تھی۔دوسرا نیا کام ۱۸۹۸ء میں یہ شروع ہوا کہ حضرت مسیح موعود کی دیرینہ خواہش کے مطابق اس سال قادیان سے ایک ہفتہ واری اخبار جاری کیا گیا جس کی غرض و غایت سلسلہ کی تبلیغ اور سلسلہ کی خبروں کی اشاعت اور جماعت کی تعلیم و