حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 539
حیات احمد ۵۳۹ جلد چهارم ہاؤس کے عقب میں تھا۔حضرت اقدس کے نزول اجلاس کے باعث رشک جنت بنا ہوا تھا۔سردی کا موسم تھا ایک وسیع کمرہ کی باہر والی طاقچی میں حضرت صاحب تشریف فرما تھے۔اس وقت کے حالات کے مطابق یہ جگہ بہت غیر محفوظ تھی باہر سے بڑی آسانی سے حملہ ہو سکتا تھا۔مگر بغیر کسی محافظ کے حضرت اقدس نہایت اطمینان بیٹھے ہوئے تھے خدام کے علاوہ شہر کے بہت سے معزز اشخاص وہاں موجود تھے۔کمرہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔غیر از جماعت لوگ مختلف قسم کے اعتراض کرتے تھے اور حضرت صاحب جواب دیتے تھے۔آخر عیسائیوں کی طرف سے ایک اعتراض پیش ہوا کہ قرآن مجید میں جو قصے درج ہیں وہ بائبل سے لئے گئے ہیں“۔معلوم نہیں یہ اعتراض کسی عیسائی نے پیش کیا یا کسی مسلمان نے غالباً کسی عیسائی کی طرف سے پیش کیا گیا تھا چونکہ مسئلہ اہم تھا اور حاضرین کی تعداد اتنی تھی کہ اگر حضرت صاحب بیٹھ کر جواب دیتے تو سب حاضرین نہ سن سکتے۔اس واسطے حضرت کھڑے ہو گئے اور ایسی معرکہ کی تقریر فرمائی کہ اپنی جماعت کے لوگ تو ایک طرف رہے دوسرے لوگ بھی عش عش کرنے لگے۔مجھے وہ سماں نہیں بھول سکتا جب بہت سے دلائل دے کر حضرت صاحب نے فرمایا غرض جس طرح گھاس پھوس اور چارہ گائے کے پیٹ میں جا کر لہو اور پھر تھنوں میں جا کر دودھ بن جاتا ہے اسی طرح تو رات اور انجیل کی کہانیاں اور داستانیں قرآن میں آکر نور اور حکمت بن گئیں۔“ یہ سن کر حال جَزَاكَ الله اور بَارَكَ الله کے نعروں سے گونج اٹھا۔میں جب کبھی اس طرف جاتا ہوں اور اس طاقچی کو دیکھتا ہوں تو وہ نظارہ آنکھوں کے سامنے آنے سے جو دل پر گزرتی ہے اس کو خدا ہی جانتا ہے اگر ہم سکھ بھائیوں کا تتبع کریں تو یہاں ایک عالیشان عمارت لیکچر صاحب کے نام سے ہوتی۔“