حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 538 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 538

حیات احمد ۵۳۸ جلد چهارم قتل کا مقدمہ بھی چل رہا تھا جس کا ذکر آگے آتا ہے۔ایسے حالات میں سفر (جب کہ قتل کی دھمکیاں بھی دی جاچکی ہوں ) خطرات کا سفر تھا مگر حضرت اقدس کے ساتھ ربانی تائیدات تھیں اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا۔وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ قتل کے فتاولی اور قتل کے منصوبوں پر آپ کو توجہ ہی کرنے کی ضرورت نہ تھی۔آپ نے یہ سفر اپنے خدام کے ہمراہ کیا اور واپس ہوئے۔قیام لاہور واپسی پر آپ نے لاہور میں قیام فرمایا اور مکرم شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم و مغفور تاجر کے مکان پر جو انار کلی میں واقع تھا فروکش ہوئے۔شیخ صاحب کی دوکان اس وقت بمبئی ہاؤس کے نام سے مشہور تھی۔اور پنجاب ریلیجس بک سوسائٹی کے بالکل سامنے تھی۔اس کے عقب میں آپ کا رہائشی مکان تھا۔ہر مذہب و ملت کے لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور مختلف قسم کے سوال کرتے اور آپ اُن کے جواب دیتے اس منظر کا ذکر مرحوم و مغفور میرے مکرم چودہری محمد اسماعیل صاحب ریٹائر ڈالی۔اے۔سی نے ”ہمارے مسیحا کے عنوان سے مختصراً لکھا تھا۔چود ہری صاحب سلسلم کے ایک ممتاز بزرگ اور فاضل حضرت مولوی عبداللہ صاحب کے فرزند رشید تھے حضرت خلیفتہ اسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز سے انہیں محبت و اخلاص تھا مگر مکرم مولوی محمد علی صاحب مغفور کے ساتھ بھی انہیں محبت تھی اس لئے اختلاف کے وقت وہ ان کے ساتھ رہے۔خود راقم الحروف سے بھی انہیں مخلصانہ جذبات اخوت تھے۔اللہ تعالیٰ ان کو اپنے دامن رحمت میں مقام قرب عطا فرمائے اپنے خاندان میں صرف وہ عملاً وابستہ خلافت نہ ہوئے ورنہ سارا خاندان خلافت کا مخلص اور وفادار تھا۔حضرت مولوی عبد اللہ صاحب کی بڑی خواہش تھی کہ چود ہری صاحب خلافت کی بیعت کر لیں۔یہ ذکر ایک مخلص بھائی کی یاد کے سلسلہ میں آگیا وہ لکھتے ہیں۔حضرت شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم کا دولت کدہ جو اُن کی پرانی دوکان بمبئی