حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 44 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 44

حیات احمد ۴۴ جلد چهارم رہائی کے بعد وہ شخص ایک مرتبہ مجھے سنہری مسجد کے قریب مل گیا۔میں نے اس کو السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہہ کر ٹھہر الیا اور پوچھا کہ آپ کو پنڈت لیکھرام صاحب کے قتل کے شبہ میں گرفتار کیا گیا۔اور پھر چھوڑ دیا گیا کیا آپ کا کچھ تعلق اس معاملہ سے تھا یا نہیں۔اس نے کہا جو شخص قانون کی نظر میں گنہگار نہیں اس کے متعلق ایسا سوال نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ کی ستاری کو ہر شخص سمجھ نہیں سکتا۔اس گرفتاری میں کچھ ثواب مقدر تھا یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔غرض اس دوڑ دھوپ میں آخر تک اصل قاتل کا پتہ نہ لگا۔بعض لوگوں نے اس قتل کو مذہبی قرار دیا اور بعض نے خانگی۔بہر حال پیشگوئی پوری ہوگئی۔استفتاء حضرت اقدس نے تمام واقعات لکھ کر ایک استفتاء شائع کیا۔جس پر ع ہندوؤں اور سکھوں نے اپنے تصدیقی دستخط ہزاروں کی تعداد میں درج کئے کہ پیش گوئی پوری ہوئی۔حضرت نے تریاق القلوب کے ضمیمہ میں کچھ نام درج کر دیئے ہیں۔فيه آياتُ لِلسَّائِلِينَ پنڈت لیکھرام صاحب کے متعلق پیش گوئی متعدد پیش گوئیوں کا مجموعہ ہے۔جس کا ذکر میں اپنے اپنے موقعہ پر کروں گا۔مثلاً سرسید احمد خاں صاحب مرحوم کے متعلق ، شیخ نجفی کے مقابلہ میں، شیخ مہر علی صاحب کے مقابلہ میں ، یہ ایک لمبا سلسلہ ہے اور مارچ ۱۸۹۷ء کے مہینے میں لگاتار اشتہارات کا ایک ایسا سلسلہ جاری ہو گیا جو حضرت اقدس کی اپنی صداقت پر یقین کامل اور کامیابی کی بشارات پر ایمان اور آپ کی سیرت کے اس پہلو کو بھی نمایاں کرتا ہے کہ آپ ایک کامیاب جرنیل کی طرح آگے بڑھ رہے ہیں۔قتل عمد کے اقدام میں ماخوذ کرانے میں دشمن کی کوششیں جن میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بڑی قوت سے شریک ہوا اور اس نے الہامی قاتل کے عنوان سے آپ کے خلاف اشاعۃ السنہ میں مضامین لکھے۔مگر حضرت اقدس پر ان تمام مساعی کا