حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 527 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 527

حیات احمد ۵۲۷ جلد چهارم خدا تعالیٰ کے نیک بندوں کو اُس کی سچائی کی نسبت بذریعہ رویا والہام و غیره اطلاع دی جائے گی اور دوسرے آسمانی نشان بھی ظاہر ہوں گے۔تب علماء وقت طَوْعًا وَ گڑھا اس کو قبول کریں گے۔سواے عزیز و اور بزرگو برائے خدا عالم الغیب کی طرف توجہ کرو۔آپ لوگوں کو اللہ جل شانہ کی قسم ہے کہ میرے اس سوال کو مان لو۔اس قدیر ذوالجلال کی تمہیں سوگند ہے کہ اس عاجز کی یہ درخواست رد مت کرو۔عزیزان سے دہم صدبار سو گندے مے بروئے حضرت دادار سو گند که در کارم جواب از حق بجوئید محبوب دل ابرار سوگند هَذَا مَا أَرَدْنَا لِإِزَالَةِ الْدُّجى وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى تبلیغ رسالت جلد ۶ صفحه ۱۴۴ تا ۱۵۰ مجموعه اشتہارات جلد ۲ صفحه ۱۵۱ تا ۵۷ اطبع بار دوم ) مسجد مبارک کی توسیع حضرت اقدس نے نماز باجماعت کے التزام کے لئے اپنے گھر کے ساتھ ایک مسجد کی ۱۸۸۳ء میں تعمیر کی تھی جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کی بشارات تھیں اسے مبارک قرار دیا اس لئے اس کا نام مسجد مبارک رکھا گیا یہ مسجد حیات احمد میں ۱۸۸۳ء کے واقعات میں لکھ آیا ہوں یہ کوچہ مسجد اقصیٰ کو مسقف کر کے تیار ہوئی تھی۔یہ بہت چھوٹی سی مسجد تھی جس میں بمشکل تمہیں بتیس آدمی کھڑے ہو سکتے تھے پھر جوں جوں جماعت بڑھتی گئی بیت الفکر سے بھی مسجد کا کام لیا جانے لگا۔اور بیت الفکر کے مشرقی جانب جو صحن تھا وہ بھی نماز کے وقت مسجد کا کام دیتا اصل مسجد کے مشرقی جانب جو وضو خانہ تھا اور جس میں سرخ چھینٹوں کا نشان ظاہر ہوا۔اُس کی سطح کو اونچا کر کے مسجد ترجمہ لے۔اے دوستو میں تمہیں سینکڑوں قسمیں دیتا ہوں اور جناب الہی کی ذات کی قسمیں دیتا ہوں۔ہے کہ میرے معاملہ میں خدا سے ہی جواب مانگو۔میں تمہیں نیکوں کے دلوں کے محبوب کی قسم دیتا ہوں۔