حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 520 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 520

حیات احمد ۵۲۰ جلد چهارم کرتے ہیں۔چنانچہ فرمایا اگر کسی کے دل میں یہ وسوسہ گزرے کہ یہ تمام امور دنیا داری اور خوشامد میں داخل ہیں اور الہی سلسلہ سے مناسبت نہیں رکھتے تو اس کو یقینا سمجھنا چاہیے کہ یہ شیطانی وسوسہ ہے۔ہم اس شکرگزاری کے جلسہ میں سرکار انگریزی سے کسی جاگیر کی درخواست نہیں کرتے اور نہ کوئی لقب چاہتے ہیں اور نہ کسی انعام کے خواستگار ہیں اور نہ یہ خیال ہے کہ وہ ہمیں اچھا کہیں بلکہ یہ جلسہ محض اس بار سے سبکدوش ہونے کے لئے ہے جو ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کے احسانات کا بار ہمارے سر پر ہے۔خوب یاد رکھو کہ جو شخص انسان کا شکر ادا نہیں کرتا اُس نے خدا کا بھی شکر نہیں کیا۔ہمارے کسی کام میں نفاق نہیں۔ہم خوب جانتے ہیں کہ نیکی کرنے والوں کی نیکی کو ضائع کرنا بد ذاتی ہے۔بعض نادان مسلمانوں نے ہم پر اعتراض کیا ہے کہ جو ثر کی سفیر کے خط کا رڈ بذریعہ اشتہار شائع کیا گیا ہے اُس میں سُلطان روم کی بے ادبی کی گئی ہے اور وہ خلیفہ المؤمنین ہے اور نیز اُس اشتہار میں مداہنہ کے طور پر انگریزوں کی تعریف کی گئی ہے، لیکن واضح رہے کہ یہ تمام باتیں کو نہ اندیشی اور بخل کی وجہ سے ہمارے مخالفوں کے منہ سے نکل رہی ہیں۔ہم نے سلطان کو کچھ بُرا نہیں کہا اور نہ بے ادبی کی۔بلکہ ہمیں افسوس ہے کہ جس شخص کے ایسے سفیر اور ایسے ارکان ہیں اُس کی حالت قابلِ رحم ہے۔ہم نے اس سفیر کو بچشم خود دیکھا ہے کہ بجائے نماز تمام روز شطرنج اور ٹھٹھا اور ہنسی میں گزارتا تھا۔وہ قادیان میں آکر ایک ایسی جماعت کے اندر آ گیا تھا جو اس کی بے قیدی کی طرز اور طریق سے بالکل مخالف تھی۔خدا جانتا ہے کہ ہمارا دل اس بات سے جلتا اور کباب ہوتا ہے اور بے اختیار جوش اٹھتا ہے کہ ایسے دنوں میں اس سلطنت کے ارکان کو چاہیے تھا کہ تقویٰ میں ترقی کرتے۔منہیات سے باز آتے نماز کی