حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 43
حیات احمد ۴۳ جلد چهارم غرض اس مقدمہ کے سلسلہ میں بمقام گورداسپور ہماری جماعت کی ایک پریڈ ہوئی۔خفیہ پولیس کے ماہر افسران اس میں پنڈت لیکھرام کے قاتل کو شناخت کرنے آئے۔میں اس پریڈ میں شریک تھا۔اس لئے کہ ہر پیشی پر موجود رہتا اور دوسری جنگ مقدس کے نام سے میں نے حالات شائع کئے تھے۔جب وہ خفیہ پولیس کا سراغرساں ( جو ایک پستہ قد کا گھٹا ہوا نو جوان تھا) میرے پاس آیا تو کھڑا ہو کر غور سے میرے سراپا کو دیکھنے لگا۔مسٹر لیمار چنڈ سپرنٹنڈنٹ پولیس گورداسپور اور دوسرے اور افسران شریک تھے۔اس کے بغور دیکھنے اور تاڑنے پر مسٹر لیمار چنڈ نے کسی قدر ظریفانہ رنگ میں کہا (وہ مجھے جاننے لگے تھے ) یہی ضرور ہوگا یا یہ ضرور ہوگا۔وہ افسر پولیس کھسیانا سا ہو کر آگے بڑھ گیا اور ثابت ہوا کہ ان میں کوئی نہیں۔ہماری جماعت کے دوسرے افراد میں سے ایک خوش قسمت انسان میرے مکرم بھائی بابو محمد وزیر خاں رضی اللہ عنہ تھے۔وہ برما میں کام کرتے تھے۔اور قاتل کے متعلق کہا گیا ہے کہ برما سے آیا ہے۔حضرت وزیر خاں صاحب کا کچھ حلیہ بھی اس سے ملتا تھا۔پولیس نے ان کو حراست میں لے لیا۔اور تحقیقات کے بعد جب دستاویزی ثبوت ۶ / مارچ کے متعلق ان کی تائید میں ثابت ہوا تو چھوڑ دیا گیا۔اس قدر ضمنی بیان کے سلسلہ میں ایک اور واقعہ بھی بیان کردینا چاہتا ہوں۔قتل کے شبہ میں ایک شخص کشمیر میں گرفتار ہوا۔اور اسے لاہور لایا گیا۔آریہ سماج کے بعض عہدہ داروں نے اسے شناخت کیا۔اور شور ہو گیا کہ قاتل پکڑا گیا۔اُس کی شناخت کی پریڈ جیل میں ہوتی رہی اُس کا حلیہ بالکل قاتل کا مشتہرہ حلیہ تھا۔آخر جب پنڈت صاحب کی والدہ اور بیوی نے اُسے شناخت کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ وہ شخص نہیں ہے۔اس کی آواز اُس کی آواز جیسی نہیں۔اس پر وہ چھوڑ دیا گیا۔پھر کچھ عرصہ بعد آریہ سماج میں اس پر باہم اختلاف ہوا۔ایک فریق الزام دیتا تھا کہ قاتل کو چھڑوا دیا گیا۔یہ سب حالات اس وقت کے اخبارات میں اور خانہ جنگی کے دوران میں ہتھ کاری وغیرہ میں شائع ہوتے رہے۔