حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 519 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 519

حیات احمد ۵۱۹ جلد چهارم بہت نیکی کرے گا۔میں دعا مانگتا ہوں کہ اس کا رروائی کے لئے خدا تعالیٰ آپ ہماری مُحسنہ ملکہ معظمہ کے دل میں القا کرے۔پیلاطوس نے جس کے زمانہ میں یسوع تھا نا انصافی سے یہودیوں کے رعب کے نیچے آکر ایک مجرم قیدی کو چھوڑ دیا اور یسوع جو بے گناہ تھا اُس کو نہ چھوڑا لیکن اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند ہم عاجزانہ ادب کے ساتھ تیرے حضور میں کھڑے ہو کر عرض کرتے ہیں کہ تو اس خوشی کے وقت میں جو شصت سالہ جو بلی کا وقت ہے یسوع کے چھوڑنے کے لئے کوشش کر۔اس وقت ہم اپنی نہایت پاک نیت سے جو خدا کے خوف اور سچائی سے بھری ہوئی ہے تیری جناب میں اس التماس کے لئے جرات کرتے ہیں کہ یسوع مسیح کی عزت کو اُس داغ سے جو اُس پر لگایا جاتا ہے اپنی مردانہ ہمت سے پاک کر کے دکھلا۔بے شک شہنشاہوں کے حضور میں ان کی استمزاج سے پہلے بات کرنا اپنی جان سے بازی ہوتی ہے لیکن اس وقت ہم یسوع مسیح کی عزت کے لئے ہر ایک خطرہ کو قبول کرتے ہیں اور محض اُس کی طرف سے رسالت لے کر بحیثیت ایک سفیر کے اپنے عادل بادشاہ کے حضور میں کھڑے ہو گئے ہیں۔“ جلسہء احباب کا انعقاد تحفہ قیصریہ، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۴ ۲۷ تا ۲۷۷) حکومت ہند نے جشن جو بلی کے متعلق جو احکام جاری کئے تھے اُن کے مد نظر اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کے شکریہ میں جو امن کی صورت میں تبلیغ اسلام اور فرائض اسلام کی بجا آوری کی نعمت اس کے عہد میں ملی آپ نے ۱۹ جون ۱۸۹۶ء کو جلسہء احباب کا اعلان کیا اس جلسہ کا عنوان ہی آپ نے وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدّث رکھا اور ۲۰ / اور ۲۱ / جون ۱۸۹۷ء کو (حسب ہدایات والیس پریسیڈنٹ جنرل کمیٹی اہل اسلام ہند (شائع کردہ یکم جون ۱۸۹۷ء) یہ جلسہ منعقد ہوا۔اس اعلان میں آپ نے اس اعتراض کا بھی جواب دیا جو بعض نا اہل معترضین خوشامد کا