حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 518
حیات احمد ۵۱۸ جلد چهارم کے پیارے اور برگزیدہ کی عزت کو بچایا جائے۔کیونکہ زبان عرب اور عبرانی میں لعنت کا لفظ خدا سے دور اور برگشتہ ہونے کے لئے آتا ہے اور کسی شخص کو اُس وقت لعین کہا جاتا ہے کہ جب وہ بالکل خدا سے برگشتہ اور بے ایمان ہو جائے اور خدا اُس کا دشمن اور وہ خدا کا دشمن ہو جائے۔اسی لئے لغت کے رو سے عین شیطان کا نام ہے یعنی خدا سے برگشتہ ہونے والا اور اس کا نافرمان۔پس یہ کیونکر ممکن ہے کہ خدا کے ایسے پیارے کی نسبت ایک سیکنڈ کے لئے بھی تجویز کر سکیں کہ نعوذ باللہ کسی وقت دل اُس کا در حقیقت خدا سے برگشتہ اور اُس کا نافرمان اور دشمن ہو گیا تھا؟ کس قدر بیجا ہوگا کہ ہم اپنی نجات کا ایک فرضی منصوبہ قائم کرنے کے لئے خدا کے ایسے پیارے پر نافرمانی کا داغ لگادیں۔اور یہ عقیدہ رکھیں کہ کسی وقت وہ خدا سے باغی اور برگشتہ بھی ہو گیا تھا۔اس سے بہتر ہے کہ انسان اپنے لئے دوزخ قبول کرے مگر ایسے برگزیدہ کی پاک عزت اور بے لوث زندگی کا دشمن نہ بنے۔“۔حضور ملکہ معظمہ اپنی روشن عقل کے ساتھ سوچیں کہ کسی کو خدا سے برگشتہ اور خدا کا دشمن نام رکھنا جو لعنت کا مفہوم ہے کیا اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی اور بھی تو ہین ہوگی؟ پس جس کو خدا کے تمام فرشتے مُقرّب مُقرب کہہ رہے ہیں اور جو خدا کے نور سے نکلا ہے اگر اس کا نام خدا سے برگشتہ اور خدا کا دشمن رکھا جائے تو اُس کی کس قدر اہانت ہے؟!! افسوس اس تو ہین کو یسوع کی نسبت اس زمانہ میں چالیس کروڑ انسان نے اختیار کر رکھا ہے۔اے ملکہ معظمہ ! یسوع مسیح سے تو یہ نیکی کر کہ خدا تجھ سے حاشیہ۔اگر حضور ملکہ معظمہ میرے تصدیق دعوی کے لئے مجھ سے نشان دیکھنا چاہیں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ ابھی ایک سال پورا نہ ہو کہ وہ نشان ظاہر ہو جائے۔اور نہ صرف یہی بلکہ دعا کرسکتا ہوں کہ یہ تمام زمانہ عافیت اور صحت سے بسر ہو۔لیکن اگر کوئی نشان ظاہر نہ ہو اور میں جھوٹا نکلوں تو میں اس سزا میں راضی ہوں کہ حضور ملکہ معظمہ کے پایہ تخت کے آگے پھانسی دیا جاؤں۔یہ سب الحاح اس لئے ہے کہ کاش ہماری محسنہ ملکہ کو اس آسمان کے خدا کی طرف خیال آجائے جس سے اس زمانہ میں عیسائی مذہب بے خبر ہے۔منہ