حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 510
حیات احمد ۵۱۰ جلد چهارم کے لئے توفیق تو بہ کی بھی دعا کرتے تھے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں ”سواس رنج کی وجہ سے جو اس عاجز کے دل کو پہنچا اس بزرگ کے حق میں دعا کی گئی کہ یا تو خدا تعالیٰ اس کو تو بہ اور پشیمانی بخشے اور یا کوئی تنبیہ نازل کرے سوخدا تعالیٰ نے اپنے فضل اور رحم سے اس کو توفیق تو بہ عنایت فرمائی اور اس بزرگ کو الہام کے ذریعہ سے اطلاع دی کہ اس عاجز کی دعا اس بارے میں قبول کی گئی اور ایسا ہی معافی بھی ہوگئی سو اس نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر اور آثار خوف دیکھ کر نہایت انکسارا اور تذلل سے معذرت کا خط لکھا جسے حاشیہ میں درج کر دیا ہے۔حاشیہ۔سیدی و مولائی السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ایک خطا کار اپنی غلط کاری سے اعتراف کرتا ہوا (اس نیاز نامہ کے ذریعہ سے ) قادیان کے مبارک مقام پر (گویا) حاضر ہو کر آپ کے رحم کا خواستگار ہوتا ہے۔یکم جولائی ۷ہ ء سے یکم جولائی 21 ء ء تک جو اس گنہ گار کو مہلت دی گئی اب آسمانی بادشاہت میں آپ کے مقابلہ میں اپنے آپ کو مجرم قرار دیتا ہے۔(اس موقعہ پر مجھے القا ہوا کہ جس طرح آپ کی دعا مقبول ہوئی اسی طرح میری التجا و عاجزی قبول ہو کر حضرت اقدس کے حضور سے معافی و رہائی دی گئی ) مجھے اب زیادہ معذرت کرنے کی ضرورت نہیں تاہم اس قدر ضرور عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میں ابتدا سے آپ کی اس دعوت پر بہت غور سے جویائے حال رہتا رہا۔اور میری تحقیق ایمان داری و صاف دلی پر مبنی تھی حتی کہ (۹۰) فی صدی یقین کا مدارج پہنچ گیا۔(۱) آپ کے شہر کے آریہ مخالفوں نے گواہی دی کہ بچپن سے آپ صادق و پاکباز تھے۔(۲) آپ جوانی سے اپنے تمام اوقات خدائے واحد حتی و قیوم کی عبادت میں لگا تار صرف فرماتے رہے۔إنَّ اللهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ لي (۳) آپ کا حسن بیان تمام عالمان ربانی سے صاف صاف علیحدہ نظر آتا ہے۔آپ کی تمام تصنیفات میں ایک زندہ روح ہے۔(فِيْهَا هُدًى وَنُورٌ لم (۴) آپ کا مشن کسی فساد اور گورنمنٹ موجودہ کی ( جو تمام حالات سے اطاعت و شکرگزاری کے قابل ہے) بغاوت کی راہ نمائی نہیں کرتا۔اِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ فِي الْأَرْضِ الْفَسَادِ التوبة: ١٢٠ المآئدة: ۴۵