حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 42 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 42

حیات احمد ۴۲ جلد چهارم کی مخالفت کے اور ایک مرتبہ اس کی دوکان کو جلا دینے کی کوشش کے جب ناکام رہے اور اُن کے تقویٰ و طہارت کو دیکھا تو اُن کی عزت کرتے ہیں۔ہم لوگ اس قسم کی ذلیل حرکات میں حصہ نہیں لے سکتے۔مجھ سے انہوں نے صاف کہا کہ آپ کے متعلق بھی شبہات کا اظہار کیا جاتا ہے۔میں آپ کی تلاشی لوں گا۔میں ہنس پڑا کہ رانا صاحب! مجھ پر کیا شبہ مجھے تو واقعہ قتل کی خبر لالہ نند لال صاحب سیکرٹری ٹمپرنس سوسائٹی نے دی اور میں تو یہاں سے باہر گیا ہی نہیں اور یہ کام میرے جیسے اہل قلم کا نہیں ہوسکتا۔تلاشی آپ ہزار مرتبہ لیں۔آپ خود سوچیے فرض کرو اگر کوئی مشتبہ چیز ہوتی تو اب تک وہاں رکھی رہتی۔غرض یہ معاملہ تحقیق کے بجائے تضحیک کا ہو گیا۔اس سلسلہ میں ان سے لمبی گفتگو ہوئی۔لالہ نند لال صاحب کو بلایا گیا انہوں نے میرے بیان کی تصدیق کی اور تلاشی کو غیر ضروری سمجھا گیا۔جب ڈاکٹر مارٹن کلارک کا مقدمہ اقدام قتل شروع ہوا تو جناب پنڈت رام بھیجدت صاحب مارٹن کلارک کے وکیل تھے۔انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ ” مجھے تو اس مقدمہ سے اس لئے دلچسپی ہے کہ شاید پنڈت لیکھرام کے قتل پر روشنی پڑے۔مجھے پنڈت رام بھجدت صاحب سے اس وقت سے شناسائی تھی جب انہوں نے ترن تارن میں وکالت کا کام شروع کیا اور آریہ سماج کے جلسوں میں اور اپنے مقدمات کے لئے اکثر آتے جاتے رہتے تھے۔وہ ایک شریف النفس مگر کٹر آریہ تھے اور اپنی جماعت میں ممتاز لیڈر تھے۔ان کو سلسلہ احمدیہ کی طرف سے ایک خاص رنج بھی تھا جس کا اظہار انہوں نے قادیان آریہ سماج کے پہلے جلسہ میں کیا۔اور وہ مکرم شیخ عبدالرحمان صاحب قادیانی کا قبول اسلام تھا۔شیخ صاحب مکرم اپنے ممتاز خاندان ، دت کے رکن ہیں جن کے نام سے کنجر وڑ د تاں ضلع گورداس پور میں ایک مشہور قصبہ ہے کسی زمانہ میں یہ ایک حکمران قوم تھی۔