حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 509
حیات احمد ۵۰۹ جلد چهارم تو ہر وقت یہی جوش مار رہی ہے کہ اے شاہ ذوالجلال ابدی سلطنت کے مالک سب ملک اور ملکوت تیرے لئے ہی مسلم ہے۔تیرے سوا سب عاجز بندے ہیں بلکہ کچھ بھی نہیں۔آن کس که بتو رسد شہاں را چه کند با فَرّ تو فر خسروان را چه کند چوں بندہ شناخت بداں عز و جلال کے بعد از تو جلال دیگران را چه کند دیوانه کنی، دو جهانش بخشی کے ہر دیوانہ تو ہر دو جہاں را چه کند الراق میرزا غلام احمد از قادیان ۲۵ / جون ۱۸۹۷ء تبلیغ رسالت جلد ۶ صفحه ۱۳۹ تا ۱۴۴۔مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۱۴۶ تا ۱۵۰ طبع بار دوم ) بزرگ موصوف کی توبہ حضرت کے اس اعلان کی اشاعت کے بعد بزرگ موصوف (راجہ جہاندار خاں صاحب) دعا و استغفار میں مصروف ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کے حضور اظہار حق کے لئے روتے رہے اور بالآخر اللہ تعالیٰ نے اس کو بذریعہ الہام حضرت اقدس کی دعا کی قبولیت سے مطلع کر دیا۔اور حضرت اقدس اس لے ترجمہ۔جس کی تجھ تک رسائی ہے وہ بادشاہوں کو کیا سمجھتا ہے اور تیری شان کے آگے وہ بادشاہوں کی کیا حقیقت سمجھتا ہوں۔سے جب بندہ نے تیرے عز و جلال کو پہچان لیا تو پھر تجھے چھوڑ کر وہ دوسروں کی شوکت کو کیا کرے۔سے اپنا دیوانہ بنا کر تو اسے دونوں جہان بخش دیتا ہے مگر تیرا دیوانہ دونوں جہانوں کو کیا کرے۔