حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 505 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 505

حیات احمد جلد چهارم راجہ جہان دار خاں صاحب مرحوم دوسرا مضمون ان بزرگ کا تھا۔اگر چہ اب تک اس بزرگ کا نام مستور رہا۔مگر میں اس راز کو کھول دینا چاہتا ہوں اس لئے کہ اس بزرگ نے حق پسندی اور اپنے خلوص و تقویٰ کا اظہار کیا۔یه شخص راجہ جہاندار خاں صاحب چیف آف دی گھکڑ از تھا جو ایک عالم اور سر کا رانگریزی میں اپنی قوی حیثیت اور عہدہ کے لحاظ سے ممتاز تھا۔اُس نے یہ مضمون اپنی اس عقیدت کے جوش میں لکھ دیا جو اُس وقت عام طور پر مسلمانوں کو سلطان روم سے تھی اور ۱۵ / جون ۱۸۹۷ء کے چودھویں صدی میں چھپ گیا۔اپنے اس مضمون کا عنوان اس نے یہ تجویز کیا چوں خدا خواهد که پرده کس در ☆ میلش اندر طعنه پاکان برد چودھویں صدی کا یہ پرچہ جب حضرت کے حضور پڑھا گیا تو آپ کے قلب میں ایک خاص کیفیت پیدا ہوگئی۔جیسا کہ آپ فرماتے ہیں۔حضرت کی قلبی حالت اور دعا افسوس کہ پرچہ چودھویں صدی ۱۵ جون ۱۸۹۷ء میں بھی بہت سی جزع فزع کے ساتھ سلطان روم کا بہانہ رکھ کر نہایت ظالمانہ توہین و تحقیر و استہزاء اس عاجز کی نسبت کیا گیا ہے اور گندے اور ناپاک اور سخت دھوکہ دینے والے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔اور سراسر شرارت آمیز افترا سے کام لیا گیا ہے۔مگر کچھ ضرور نہیں کہ میں اُس کے رڈ میں تضیع اوقات کروں کیونکہ وہ دیکھ رہا ہے جس کے ہاتھ میں حساب ہے۔لیکن ایک عجیب بات ہے جس کا اس وقت ذکر کرنا نہایت ضروری ہے ترجمہ۔جب خدا کسی کی پردہ دری چاہے تو وہ پاکبازوں کے خلاف طعنہ زنی کا میلان پکڑتا ہے۔