حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 496
حیات احمد ۴۹۶ جلد چهارم یہ ایک لمبی مثنوی ہے جو حقائق و معارف سے لبریز ہے۔حضرت خواجہ صاحب کی مجلس میں جب حضرت اقدس کا ذکر آتا تو وہ عزت و احترام سے ذکر کرتے۔اگر کوئی مخالفت کا اظہار کرتا تو اس سے اپنی نفرت کا اعلان کرتے اور ایسے لوگوں کو منع کرتے۔حضرت مولوی غلام احمد اختر روحی جو ریاست بہاولپور میں ضلعدار نہر تھے ایک جید عالم اور فارسی کے ایک ممتاز شاعر تھے اور آخر میں وہ ریاست بہاولپور کی تاریخ مرتب کرنے پر مامور تھے وہ حضرت خواجہ غلام فرید کے حلقہ ارادت میں تھے اور اکثر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور حضرت خواجہ صاحب بھی ان سے للّہی محبت رکھتے وہ اکثر خواجہ صاحب کا تذکرہ کرتے اور اس احترام کا اظہار کرتے جو وہ حضرت اقدس کے لئے رکھتے تھے۔غرض خواجہ صاحب نے حضرت کے دعاوی کی تصدیق کی آپ کے ارشادات ایک کتاب ارشادات فریدی میں جمع ہیں اور اس کتاب کے مؤلف نے نہایت اخلاص و دیانت سے ان بیانات کو جو حضرت اقدس کی نسبت حضرت خواجہ صاحب نے وقتاً فوقتا فرمائے درج کر دیا ہے بے محل نہ ہوگا اگر اس مقام پر میں وابستگان چاچڑاں شریف کو اس نور سے مستفیض ہونے کی اپیل کروں۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا سفر چاچڑاں شریف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے جس استقلال کے ساتھ حضرت اقدس کی مخالفت کی ہے اس کی نظیر دوسرے مخالفین میں نہیں بلکہ وہ سب دراصل اس کے ہی اتباع میں سمجھے جانے چاہئیں البتہ لودہانہ کے مخالفین علماء کو مخالفت کے سلسلہ میں اولیت کا مقام حاصل ہے لیکن ان کی مخالفت میں استمرار نہ تھا۔مگر مولوی محمد حسین نے ہر مرحلہ پر مخالفت کے لئے انتہائی کوشش کی جب اس نے یہ خط و کتابت دیکھی تو وہ وفور غم سے پریشان ہو گیا۔اور فوراً چاچڑاں پہنچا اور وہاں جا کر علمائے ہند و پنجاب کے فتویٰ کو پیش کیا اور مختلف طریقوں سے اُن پر اثر ڈالا کہ وہ اپنے خط کے خلاف کوئی ایسی تحریر دے دیں جس سے ان اعترافات تکریم کی تردید ہو اور ان کے فتویٰ کفر نوٹ۔یہ مثنوی سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۹۴ سے صفحہ ۱۰۲ تک ہے۔(ناشر)