حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 488 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 488

حیات احمد ۴۸۸ جلد چهارم شیخ نجفی نے مسیح موعود سے کیا اس سوال کے تکرار سے جہاں شیخ نجدی اور شیخ نجفی میں ایک بقیہ حاشیہ۔پس سند باید آورد و حدی پیش باید کرد که بقیہ حاشیہ۔پس سند لانی چاہیے اور کوئی حدیث پیش کرنی از آن معلوم شود که از فلاں گورے مسیح بیرون خواهد آمد چاہیے کہ جس ست معلوم ہو جائے کہ فلاں قبر سے مسیح باہر البته بعد ثابت شدن چنیں حدیثے سخت بے ایمانی خواہد آئیں گے البتہ اس قسم کی حدیث کے ثابت ہونے کے بود کہ کسے آں حدیث را قبول نکند مگر این بد قسمتی بعد یہ سخت بے ایمانی ہوگی کہ کوئی اس حدیث کو قبول نہ کرے۔مگر یہ بدقسمتی ہمارے مخالفین کی ہے کہ ان یادہ مخالفان ماست که بتائید ایں یاوہ گوئی ہائیچ حدیثے یا گوئیوں کی تائید میں ان کے پاس کوئی حدیث اور آیت آیتے در دست شاں نیست۔نہ شہادتِ قرآن بر نہیں ہے۔نہ تو قرآن کی شہادت مسیح کی حیات پر لا سکتے حیات مسیح تو انند آورد و نه از حدیث ثابت تو انند کرد که ہیں اور نہ وہ حدیث سے ثابت کر سکتے ہیں فلاں قبر پھاڑی فلاں قبر شگافتہ خواہد شد وازاں عیسی بیرون خواہد جائے گی اور اس سے عیسی باہر آئیں گے۔اور عقیدہ آمد۔و اعتقاد حیات مسیح و صعود او کسم عصری چیز لیست حیات صحیح اور جسم عنصری کے ساتھ ان کا آسمان پر چڑھنا کہ ثبوت آن از قرآن وحدیث امرے محال است - ایسی چیز ہے کہ قرآن وحدیث سے اس کا ثبوت لا نا ایک آرے در بعض احادیث لفظ نزول موجود است لیکن محال امر ہے۔ہاں ! بعض حدیثوں میں لفظ ”نزول“ ایس نادانان نمی دانند که اگر از لفظ عیسی ہماں عیسی مراد موجود ہے۔لیکن یہ نادان نہیں جانتے کہ لفظ عیسی سے وہی عیسی مراد ہوتے جو بنی اسرائیل کے نبی تھے تو لفظ بودے کہ پیغمبر بنی اسرائیل بود پس بجائے لفظ نزول نزول کے بجائے رجوع کا لفظ ہونا چاہیے تھا نہ می لفظ رجوع می بایست نه لفظ نزول زیر انکہ ہر کہ واپس کی کہ نزول کا کیونکہ جو کوئی واپس آتا ہے اسے آید او را نازل نمی گویند بلکه راجع می گویند۔عجب قومے نازل نہیں کہتے۔بلکہ راجع“ کہتے ہیں۔عجیب قوم است که از جوش تعصب محاورات لغت عرب راہم ہے کہ اس نے تعصب کے جوش سے لغت کے محاورات فراموش کرده اند۔کو بھلا دیا ہے۔اکنوں حاصل کلام این است که بر سر کار شیخ نجفی اب حاصل کلام یہ ہے کہ سرکار شیخ نجفی پر لازم ہے کہ لازم است که ازیں دو طریق مذکورہ بالا طریقے مذکورہ بالا دو طریق میں سے کسی طریق کو اختیا کریں۔تا کہ را اختیار کنند تا روئے راستی به بینند و برخود خبط عشواء وہ راستی کا چہرہ دیکھیں۔اور اپنے اوپر عشو و تکبر کا خبط روانہ کا روا ندارند۔یعنی یا صعود عیسی بجسم عنصری از قرآن و رکھیں۔یعنی یا عیسی کا بجسم عنصری قرآن و حدیث سے آسمان حدیث ثابت کنند یا بر گورے انگشت نہند کہ ازیں گور پر چڑھنا ثابت کریں۔یا کسی قبر پر انگلی رکھیں کہ اس قبر سے عیسی بیرون خواهد آمد - واما آنچه بیان فرموده اند که عیسی باہر آئیں گے۔لیکن جو انہوں نے بیان فرمایا ہے کہ