حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 487
حیات احمد ۴۸۷ جلد چهارم شیطان نے مسیح ابن مریم سے کیا تھا۔کہ اگر تو سچا ہے تو اپنے آپ کو پہاڑ سے گرادے اور یہاں بقیہ حاشیہ - لفظ تَوَفَّيْتَنِی را که در آیت موصوفه است بقیه حاشیه لفظ تَوَفَّيْتَنِی کو جو مذکورہ آیت میں ہے اس کا اپنے اوپر اطلاق فرمایا ہے اور معنے وفات کے صریح طور برخود اطلاق کرده معنی وفات را تصریح کرده است - و بیان فرمائے ہیں اور ابن عباس نے ان معنوں کی وضاحت ابن عباس بصراحت معنی آں میرانیدن نموده و شارح کو مارنے کے معنوں میں ظاہر کیا ہے اور شارح عینی نے عینی سلسله قول ابن عباس را بتمام و کمال بیان فرمودہ ابن عباس کے قول کو یہ تمام و کمال بیان فرمایا ہے۔پس اتنی پس مارا بعد زیں وضاحت ہا حاجت ثبوتے دیگر نیست وضاحت کے بعد ہمیں کسی ثبوت دیگر کی ضرورت نہیں ہے۔اگر چہ ہم دوسرے ثبوت بھی رکھتے ہیں۔لغت عرب گوثبوت ہائے دیگر ہم داریم۔لغت عرب با ماست۔ہمارے ساتھ ہے۔انسانی عقل ہمارے ساتھ ہے دیگر عقل انسانی با ماست - اقرار دیگر قوم ہا با ماست اقرار قوموں کا اقرار ہمارے ساتھ ہے اسلام کے اکثر ائمہ کا اکثر ائمه اسلام با ماست و تا هنوز قبر عیسی علیہ السلام در اقرار ہمارے ساتھ ہے اور بلادشام میں ابھی تک حضرت بلاد شام موجود است ه آں کس کہ بقرآن و خبر زو نرہی این است جوابش که جوابش ندہی عیسی علیہ السلام کی قبر موجود ہے۔اں کس کہ بقرآن و خبر زو نر ہی این است جوابش که جوابش ندہی اما آنچه حضرت شیخ نجفی میگویند که ما قبول کردیم کہ لیکن جو کچھ شیخ نجفی کہتے ہیں کہ ہم قبول کرتے ہیں کہ عیسی بر دلیکن ممکن است که خدا دیگر بار او را زنده کرده عیسی علیه السلام مر چکے ہیں۔لیکن یہ ممکن ہے کہ خدا در دنیا بیارد - این قول ایشاں تا آں وقت قابل انہیں (عیسی کو ) دوسری دفعہ زندہ کر کے دنیا میں لے التفات نیست که ایشاں از قرآن شریف یا حدیث صحیح آئے۔ان کا یہ قول اس وقت تک التفات کے لائق نہیں ثابت کنند که فلاں قبر در آخر زمان خواهد بشگافت و جب تک کہ وہ اسے قرآن شریف یا حدیث سے ثابت نہیں کرتے کہ فلاں قبر آخری زمانے میں پھاڑی جائے گی ازاں عیسی بیرون خواهد آمد۔زیر آنکه مجرد خیال کسے اور اس میں سے عیسی باہر آئیں گے۔اس لئے کہ کسی کا که با خود ثبوتے ندارد لائق قبول نتواند شد بلکه از طرف خود ہمچو خیالات تراشیدن و سند از قرآن خیال جس کے ساتھ ثبوت نہ ہو لائق قبول نہیں ہوسکتا۔بلکہ اپنے پاس سے ایسے خیالات تراشنا اور قرآن و حدیث و حدیث نیاوردن از طریق دیانت داری و پرہیز گاری سے اس کی سند پیش نہ کرنا دیانتداری اور پرہیز گاری سے بسیار بعید است - اگر ہمیں مذہب پسند خاطر است۔بہت دور ہے۔اگر یہی مذہب ان کے دل کو پسند ہے۔ترجمہ تو جس شخص سے قرآن و حدیث (بیان کرنے) سے رہائی نہ پاسکے، اس کا صحیح) جواب یہ ہے کہ اسے جواب نہ دے۔۔