حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 475
حیات احمد ۴۷۵ جلد چهارم کرشمہ قدرت کیا ظاہر ہوا اس تحریر میں مولوی غلام دستگیر نے دوسرے رنگ میں مباہلہ کر لیا اور کاذب کی موت کے لئے اور اس کے سلسلہ کی تباہی کی دعا کی۔جب اس نے یہ کتاب لکھی وہ ضلع لاہور کے حنفی علماء میں ایک با اثر اور ایک جماعت اپنے مقتدیوں کی رکھتا تھا۔اسی طرح جیسے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اہل حدیث کے امام و مقتدا تھے۔مگر اس دعا پر پورا سال تو در کنار اپنے مطالبہ کے بموجب اس کتاب کی اشاعت کے چند روز بعد ہی مولوی غلام دستگیر صاحب ہلاک ہو گئے اور حضرت کی صداقت پر مہر کر گئے اور ان کے بعد اس خاندان کی مقتدائی ختم ہو گئی اور آج ان کا کوئی نام نہیں جانتا برخلاف اس کے بالمقابل حضرت اقدس اس کے بعد سے گیارہ سال زندہ رہے۔اور جماعت دن بدن ترقی کرتی رہی اور آج سلسلہ آفاق میں پھیل گیا اور دنیا کے ہر حصہ میں اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے موافق تبلیغ زمین کے کناروں تک پہنچ گئی۔وَالْحَمْدُ لِلهِ اَوَّلًا وَ آخِرًا وَظَاهِرًا وَ بَاطِنًا۔حضرت اقدس نے اس نشان کا ذکر اپنی تصانیف میں کیا ہے مجھے عاقبۃ المکذبین لکھنے کی توفیق ملی تو مزید صراحت سے بیان کروں گا اِنْشَاءَ اللَّهُ بِحَوْلِهِ وَبِقُوَّتِهِ - مکذبین علماء پر ایک اور طریق سے اتمام حجت اور معاہدہ صلح آپ کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ مسائل متنازعہ میں اگر علمی رنگ میں فیصلہ کرنا ہے تو قرآنِ کریم اور سنت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ کر لو اور اگر روحانی فیصلہ چاہتے ہو تو قرآنِ کریم نے جو معیار مقامات مومنین کی شناخت کے لئے مقرر کیا ہے اس پر آزمالو۔علمی رنگ کا مقابلہ مطلوب ہے تو عربی تفسیر نویسی میں مقابلہ کر لو اور بالآخر آسمانی فیصلہ بذریعہ مباہلہ کر لو مگر جب مکفرین علماء نے مختلف جیل سے گریز کیا اور جس نے قدم اٹھایا وہ مقابلہ میں گرایا گیا تو