حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 451
حیات احمد ۴۵۱ جلد چهارم اندازہ اور حد سے گزر جاتے ہیں اور بد رفتار ہیں یعنی محل اور موقعہ کو شناخت نہیں کر سکتے لِلصَّابِرِيْنَ میں جو صبر کا لفظ ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ بے تحقیق اور بے عمل سزا دینا۔اسی وجہ سے آیت میں خدا تعالیٰ نے یہ نہ فرمایا لَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ بلکہ لَهُوَ خَيْرٌ للصَّابِرِيْنَ تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ اس جگہ لفظ صبر کے وہ معنی نہیں جو پہلے لفظ میں ہیں اور اگر وہی معنی ہوتے تو بجائے لَكُمْ کے لِلصَّابِرِيْنَ رکھنا بے معنی اور بلاغت کے برخلاف ہوتا۔لغت عرب میں جیسا کہ صبر رو کنے کو کہتے ہیں ایسا ہی بے جا دلیری اور بدرفتاری اور بے تحقیق کسی کام کے کرنے کو کہتے ہیں۔اب ناظرین سوچ لیں کہ اس آیت کا صرف یہ مطلب ہے کہ ہر ایک مومن پر یہ بات فرض کی گئی ہے کہ وہ اس قدر انتقام لے جس قدر اس کو دکھ دیا گیا ہے لیکن اگر وہ صبر کرے یعنی سزا دینے میں جلدی نہ کرے تو ان لوگوں کے لئے صبر بہتر ہے جن کی عادت چالا کی اور بدرفتاری اور بد استعمالی ہے یعنی جو لوگ اپنے محل پر سزا نہیں دیتے بلکہ ایسے لوگوں سے بھی انتقام لیتے ہیں کہ اگر ان سے احسان کیا جائے تو وہ اصلاح پذیر ہو جائیں یا سزا دینے میں ایسی جلدی کرتے ہیں کہ بغیر اس کے جو پوری تحقیق اور تفتیش کریں ایک بے گناہ کو بلا میں گرفتار کر دیتے ہیں۔ان کو چاہیے کہ صبر کریں یعنی سزا دینے کی طرف جلدی نہ دوڑیں اول خوب تحقیق اور تفتیش کریں اور خوب سوچ بقیہ حاشیہ۔اور ایثار کا ثبوت ملے۔یعنی اس کو دنیا دی جائے مگر وہ دنیا کے مال کو دنیا کے محتاجوں کو دے دے جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کہ لکھو کہا روپیہ پایا اور محتاجوں کو دے دیا۔ایک مرتبہ ایک کافر کو اونٹوں اور بکریوں کا پہاڑ بھرا ہوا بخش دیا۔آپ کے یسوع کا کسی محتاج کو ایک روٹی دینا بھی ثابت نہیں سو یسوع نے دنیا کو نہیں چھوڑا بلکہ دنیا نے یسوع کو چھوڑا اُن کو کب مال ملا جس کو لے کر انہوں نے محتاجوں کو دے دیا وہ تو خود بار بار روتے ہیں کہ میرے لئے سر رکھنے کی جگہ نہیں۔ایسے فقر کے رنگ میں تو دنیا میں ہزار ہالنگوٹی پوش موجود ہیں جن کو داؤد نبی نے مورد غضب الہی قرار دیا ہے اور ایسے فقر کے لئے یہ حدیث ہے۔کہ الْفَقْرُ سَوَادُ الْوَجْهِ فِي الدَّارَيْنِ - منه