حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 439 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 439

حیات احمد ۴۳۹ جلد چهارم جو اپنی غیرت کی رو سے ہمیشہ کا ذب اور مکذب قوموں پر کیا کرتا ہے جیسا کہ اس نے فرعون پر کیا نمرود پر کیا اور نوح کی قوم پر کیا اور یہود پر کیا۔حضرات پادری صاحبان یہ بات یاد رکھیں کہ اس باہمی دعا میں کسی خاص فریق پر نہ لعنت ہے نہ بددعا ہے بلکہ اس جھوٹے کو سزا دلانے کی غرض سے ہے جو اپنے جھوٹ کو چھوڑ نا نہیں چاہتا۔ایک جہان کے زندہ ہونے کے لئے ایک کا مرنا بہتر ہے۔سواے پادری صاحبان ! دیکھو کہ میں اس کام کے لئے کھڑا ہوں اگر چاہتے ہو کہ خدا کے حکم سے اور خدا کے فیصلہ سے سچے اور جھوٹے میں فرق ظاہر ہو جائے تو آؤ تا ہم ایک میدان میں دعاؤں کے ساتھ جنگ کریں تا جھوٹے کی پردہ دری ہو۔یقیناً سمجھو کہ خدا ہے اور بیشک وہ قادر موجود ہے۔اور وہ ہمیشہ صادقوں کی حمایت کرتا ہے۔سو ہم دونوں میں سے جو صادق ہوگا خدا ضرور اس کی حمایت کرے گا۔یہ بات یا درکھو کہ جو شخص خدا کی نظر میں ذلیل ہے وہ اس جنگ کے بعد ذلت دیکھے گا اور جو اس کی نظر میں عزیز ہے وہ عزت پائے گا۔اور میں حضرات پادری صاحبان کو دوبارہ یاد دلاتا ہوں کہ اس طرح کا طریق دعا اُن کے مذہب اور اعتقاد سے ہرگز منافی نہیں اور حضرت یسوع صاحب نے باب ۲۳ آیت ۳ امتی میں خود اس طریق کو استعمال کیا ہے اور ذیل کے لفظوں سے فقیہوں اور فریسیوں پر بددعا کی ہے۔اب اگر عیسائی صاحبان کوئی لفظ استعمال کرنے سے تامل کریں تو ویل کے لفظ کو ہی استعمال کرنا تو خودان پر واجب ہے کیونکہ اُن کے مرشد اور ہادی نے بھی یہی لفظ استعمال کیا ہے۔ویل کے معنی سختی اور لعنت اور ہلاکت کے ہیں۔سو ہم دونوں اس طرح پر دعا کریں گے کہ اے خدائے قادر اس وقت ہم بالمقابل دو فریق کھڑے ہیں۔ایک فریق یسوع بن مریم کو خدا کہتا اور نبی اسلام کو سچا نبی نہیں جانتا اور دوسرا فریق عیسی ابن مریم کو رسول مانتا اور محض بندہ اس کو یقین رکھتا