حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 432
حیات احمد ۴۳۲ جلد چهارم ’اصل بات یہ ہے کہ باوا صاحب نہ ہندومت کے پابند تھے اور نہ مسلمان تھے بلکہ صرف واحد خدا پر ان کا یقین تھا۔“ خَيْطِ قادیانی کا جواب حضرت اقدس نے اس پر ایک مفصل مضمون لکھا جس میں باوا صاحب کے اسلام پر بڑی وضاحت کے ساتھ روشنی ڈالی مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔سردار راجندرسنگھ صاحب نے پنڈت لیکھرام صاحب کی تقلید کر کے ایک کتاب خبط قادیانی لکھ ماری۔اس پر حضرت اقدس نے ایک فیصلہ کن اشتہار انعامی پانچ سوروپی شائع کیا۔اور یہ فیصلہ ایک آسمانی فیصلہ کی صورت میں پیش کیا گیا۔ے حاشیہ۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّيْ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ مصطفا توان یافت جز درپئے محال است سعدی که راه صفا سردار راج اندرسنگھ صاحب متوجہ ہو کر سنیں آپ کا رسالہ جس کا نام آپ نے خبط قادیانی کا علاج رکھا ہے میرے پاس پہنچا۔اس میں جس قدر آپ نے ہمارے سید و مولیٰ جناب محمد مصطفے احمد مجتبے صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں اور نہایت بے باکی سے بے ادبیاں کیں اور بے اصل تہمتیں لگائیں۔اُس کا ہم کیا جواب دیں اور کیا لکھیں۔سو ہم اس معاملہ کو اس قادر توانا کے سپرد کرتے ہیں جو اپنے پیاروں کے لئے غیرت رکھتا ہے۔ہمارا افسوس اور بھی آپ کی نسبت ہوتا ہے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ کس ادب اور تہذیب سے ہم نے ست بچن کو تالیف کیا تھا اور کیسے نیک الفاظ میں آپ کے بابا صاحب کو یاد کیا تھا اور اس کا عوض آپ نے یہ دیا۔اگر آپ کو علم اور انصاف سے کچھ بہرہ ہوتا اور دل میں پر ہیز گاری ہوتی تو آپ ان بیہودہ افتراؤں کی پیروی نہ کرتے جن کا ہماری معتبر اور مسلم اور پاک کتابوں میں کوئی اصل صحیح نہیں پایا جاتا۔خدا کا وہ مقدس پیارا جس نے اُس کی عزت اور جلال کے لئے اپنی جان کو ایک کیڑے کی جان کے برابر بھی عزت نہیں دی۔اور اس کے لئے ہزاروں موتوں کو قبول کیا۔اُس کو آپ نے گندی گالیاں دیں اور اس کی شان میں طرح طرح کی بیباکیاں اور شوخیاں کیں۔میرا خیال اب تک نہ تھا کہ سکھ صاحبوں میں ایسے لوگ بھی ہیں۔آفتاب آپ کی نظر میں ایک ناچیز خس و خاشاک دکھائی دیا۔اے غافل ! وہی ایک نور ہے جس نے دنیا کو تاریکی میں پایا۔اور روشن کیا۔اور مردہ پایا اور جان بخشی۔تمام ترجمہ۔اے سعدی صفائی کے راستہ کو پانا محمد مصطفیٰ" کی پیروی کے بغیر ممکن نہیں۔