حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 431 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 431

حیات احمد ۴۳۱ جلد چهارم تعریف ہو یا بجز قرآن شریف کے کسی اور کتاب کی بھی آیتیں لکھی ہوں۔ہاں یہ اقرار ہمیں کرنا مناسب ہے کہ چولا صاحب میں یہ صریح کرامت ہے کہ باوجود یکہ وہ ایسے شخصوں کے ہاتھ میں رہا جن کو اللہ و رسول پر ایمان نہ تھا اور ایسی سلطنت کا زمانہ اس پر آیا جس میں تعصب اس قدر بڑھ گئے تھے کہ بانگ دینا بھی قتل عمد کے برابر سمجھا جاتا تھا مگر وہ ضائع نہیں ہوا۔تمام مغلیہ سلطنت بھی اس کے وقت میں ہی ہوئی اور اسی کے وقت میں ہی نابود ہوگئی مگر وہ اب تک موجود ہے اگر خدا تعالیٰ کا ہاتھ اس پر نہ ہوتا تو ان انقلابوں کے وقت کب کا نابود ہو جاتا مقدر تھا کہ وہ ہمارے زمانہ تک رہے اور ہم اس کے ذریعہ سے باوا صاحب کی عزت کو بے جا الزاموں سے پاک کریں اور ان کا اصل مذہب لوگوں پر ظاہر کر دیں۔سو ہم نے چولہ کو ایسے طور سے دیکھا کہ غالبا کسی نے بھی ایسادیکھا نہیں ہوگا کیونکہ نہ صرف ظاہری نظر سے کامل طور پر دیکھا بلکہ باطنی نظر سے بھی دیکھا اور وہ تمام پاک کلمات جو عربی میں لکھے تھے جن کو ہر یک سمجھ نہیں سکتا وہ ہم نے پڑھے اور ان سے نہایت پاک نتائج نکالے سو یہ دیکھنا ہم سے پہلے کسی کو نصیب نہیں ہوا۔اس وقت تک چولہ باقی رہنے کی یہی حکمت تھی کہ وہ ہمارے وجود کا منتظر تھا۔“ ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۱۴۴ و ۱۵۳ تا ۱۵۷) اس تحقیقات کو آپ نے مکمل کر کے ست بچن میں چولا صاحب کا نقشہ بھی دے دیا اور حضرت باوا صاحب کے مسلمان ہونے کے مزید دلائل تاریخی واقعات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بیان کر دیئے جوست بچن میں تفصیل سے درج ہیں۔ست بچن کی اشاعت کا اثر کتاب ست بچن کی اشاعت پر ایک قسم کا جوش پیدا ہوا سنجیدہ اور ذی فہم طبقہ نے تو اس بحث میں پڑنے کو غیر ضروری سمجھا وہ سکھ تاریخ میں حضرت بابا نانک کی زندگی کے عملی پہلو کو جانتے تھے لیکن لاہور کے ایک سکھ اخبار خالصہ بہادر نے اس پر اپنے اخبار میں ایک مضمون لکھا وہ ست بچن کے دلائل کو تو رد کر سکتا نہیں تھا اس نے سادگی سے یہ اقرار کر لینا ضروری سمجھا کہ