حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 430 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 430

حیات احمد ۴۳۰ جلد چهارم اندر کچھ گردوغبار سا پڑا ہے۔انہوں نے تب بڑھے کو کہا کہ چولہ کو اس گرد سے صاف کرنا چاہئے لاؤ ہم ہی صاف کر دیتے ہیں یہ کہہ کر باقی تمہیں بھی اٹھا دیں۔اور ثابت ہو گیا ہے کہ تمام قرآن ہی لکھا ہے اور کچھ نہیں۔کسی جگہ سورۃ فاتحہ لکھی ہوئی ہے اور کسی جگہ سورۃ اخلاص اور کسی جگہ قرآن شریف کی یہ تعریف تھی کہ قرآن خدا کا پاک کلام ہے اس کو نا پاک لوگ ہاتھ نہ لگا وہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اسلام کے لئے باوا صاحب کا ایسا سینہ کھول دیا تھا کہ اللہ رسول کے عاشق زار ہو گئے تھے۔غرض باوا صاحب کے اس چولہ سے نہایت قوی روشنی اس بات پر پڑتی ہے کہ وہ دین اسلام پر نہایت ہی فدا ہو گئے تھے اور وہ اس چولہ کو اسی غرض سے بطور وصیت چھوڑ گئے تھے کہ تا سب لوگ اور آنے والی نسلیں ان کی اندرونی حالت پر زندہ گواہ ہوں اور ہم نہایت افسوس کے ساتھ لکھتے ہیں کہ بعض مفتری لوگوں نے یہ کیسا جھوٹ بنا لیا کہ چولے پر سنسکرت اور شاستری لفظ اور زبور کی آیتیں بھی لکھی ہیں۔یادر ہے کہ یہ بالکل جھوٹ اور سخت مکر وہ افترا پردازی ہے اور کسی شریر انسان کا کام ہے نہ بھلے مانس کا۔ہم نے بار بار کھول کے دیکھ لیا تمام چولہ پر قرآن شریف اور کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت لکھا ہوا ہے اور بعض جگہ آیات کو صرف ہندسوں میں لکھا ہوا ہے مگر زبور اور سنسکرت کا نام ونشان نہیں ہر یک جگہ قرآن شریف اور اسماء الهی لکھے ہیں جو قرآن شریف میں ہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ جھوٹ صرف اس لئے بنایا گیا کہ تا لوگ یہ سمجھ جاویں کہ چولا صاحب پر جیسا کہ قرآن شریف لکھا ہوا ہے وید بھی لکھا ہوا ہے مگر ہم بجز اس کے کیا کہیں کہ لَعْنَتُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ۔باوا صاحب تو چولے میں صاف گواہی دیتے ہیں کہ بجز دین اسلام کے تمام دین جھوٹے اور باطل اور گندے ہیں۔پھر وہ وید کی تعریف اس میں کیوں لکھنے لگے۔چولا موجود ہے جو شخص چاہے جا کر دیکھ لے۔اور ہم تین ہزار روپیہ نقد بطور انعام دینے کے لئے طیار ہیں اگر چولہ میں کہیں وید یا اس کی شرقی کا ذکر بھی ہو یا بجز اسلام کے کسی اور دین کی بھی