حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 418
حیات احمد ۴۱۸ جلد چهارم آپ حملہ کر رہے ہیں کہ کسی طرح سب و شتم سے باز ہی نہیں آتے ہم سنتے سنتے تھک گئے اگر کوئی کسی کے باپ کو گالی دے تو کیا اس مظلوم کا حق نہیں ہے کہ اس کے باپ کو بھی گالی دے اور ہم نے تو جو کچھ کہا واقعی کہا۔وَإِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ خاکسار غلام احمد ۲۰ / دسمبر ۱۸۹۵ء ( نور القرآن نمبر ۲ صفحه ۳۷۴، ۳۷۵) یہ رسالہ حصہ دوم اس طرح پر فتح مسیح کے سات مختلف سوالات کا جواب ہے اس رسالہ کے شائع ہونے کے بعد فتح مسیح صاحب کوئی جواب نہ دے سکے بلکہ جہاں تک میراعلم ہے ان کو مشن کی طرف سے تنبیہ کی گئی کہ تم نے ایسا خط لکھ کر سخت غلطی کی۔معیار المذاہب اس رسالہ کے ساتھ آپ نے ایک اور رسالہ معیار المذاہب کے نام سے بھی ضم کرایا جس میں حقیقی مذہب کی شناخت کے معیار ہی پیش نہیں کئے بلکہ عیسائیت اور آریہ ازم اور اسلام کا متقابل مطالعہ بھی طالب حق کے لئے پیش کیا ہے۔کسر صلیب خصوصیت کے ساتھ آپ کسر صلیب کے لئے مامور تھے اس لئے اس مقابلہ میں عیسائی مذہب موجودہ کے بطلان کے لئے ایک ایسا حربہ پیش کیا جس نے صلیب کو ریزہ ریزہ کر دیا اور وہ حربہ یہ ہے کہ عیسائیت میں نجات کا مدار صرف صلیب پر ہے کہ مسیح ہمارے لئے صلیب پر مر گیا اور کفارہ ہو گیا آپ نے یہ ثابت کیا کہ مسیح صلیب پر مرا نہیں اس لئے مرنے کے بعد زندہ ہونے اور آسمان پر جانے کا عقیدہ بھی باطل ہے۔وہ صلیب پر سے زندہ اتارا گیا اور بالآخر کشمیر میں آکر فوت ہوا اور وہاں محلہ خان یار میں اُس کی قبر آج تک موجود ہے۔