حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 416
حیات احمد ۴۱۶ جلد چهارم حضرت کے اپنے الفاظ میں درج کرتا ہوں۔وجہ تالیف الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى اما بعد واضح ہو کہ چونکہ پادری فتح مسیج متعین فتح گڑھ ضلع گورداسپور نے ہماری طرف ایک خط نہایت گندہ بھیجا اور اس میں ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر زنا کی تہمت لگائی اور سوا اس کے اور بہت سے الفاظ بطریق سب وشتم استعمال کئے۔اس لئے قرین مصلحت معلوم ہوا کہ اس کے خط کا جواب شائع کر دیا جاوے۔لہذا یہ رسالہ لکھا گیا۔امید کہ پادری صاحبان اس کو غور سے پڑھیں اور اس کے الفاظ سے رنجیدہ خاطر نہ ہوں کیونکہ یہ تمام پیرا یہ میاں فتح مسیح کے سخت الفاظ اور نہایت ناپاک گالیوں کا نتیجہ ہے۔تاہم ہمیں حضرت مسیح علیہ السلام کی شان کا بہر حال لحاظ ہے۔اور صرف فتح مسیح کے سخت الفاظ کے عوض ایک فرضی مسیح کا بالمقابل ذکر کیا گیا ہے اور وہ بھی سخت مجبوری سے کیونکہ اس نادان نے بہت ہی شدت سے گالیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نکالی ہیں اور ہمارا دل دکھایا اور اب ہم اس خط کا جواب ذیل میں لکھتے ہیں۔“ ( نور القرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۷۶) نام انہی کا انسداد ”ہم اس بات کو افسوس سے ظاہر کرتے ہیں کہ ایک ایسے شخص کے مقابل پر یہ نمبر نور القرآن جاری ہوا ہے جس نے بجائے مہذبانہ کلام کے ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت گالیوں سے کام لیا ہے اور اپنی ذاتی خباثت سے اس امام الطيبين و سيد المطهرین پر سراسر افترا سے ایسی تہمتیں لگائی ہیں کہ ایک پاک دل انسان کا ان کے سننے سے بدن کانپ جاتا ہے۔لہذا محض یا وہ لوگوں کے علاج کے لئے جواب ترکی بہ ترکی