حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 399
حیات احمد ۳۹۹ جلد چهارم پس ہر یک معترض پر لازم ہو گا کہ کسی اعتراض کے وقت اس طریق سے باہر نہ جائے۔دوم۔دوسری کتابیں جو ہماری مسلم کتابیں ہیں ان میں سے اول درجہ پر صحیح بخاری ہے اور اس کی وہ تمام احادیث ہمارے نزدیک حجت ہیں جو قرآن شریف سے مخالف نہیں اور ان میں سے دوسری کتاب صحیح مسلم ہے اور اس کو ہم اس شرط سے مانتے ہیں کہ قرآن اور صحیح بخاری سے مخالف نہ ہو اور تیسرے درجہ پر صحیح ترمذی۔ابن ماجہ۔موطا۔نسائی۔ابو داؤد۔دار قطنی کتب حدیث ہیں۔جن کی حدیثوں کو ہم اس شرط سے مانتے ہیں کہ قرآن اور صحیحین سے مخالف نہ ہوں۔یہ کتابیں ہمارے دین کی کتابیں ہیں اور یہ شرائط ہیں جن کی رو سے ہمارا عمل ہے اب ہم قانونی طور پر آپ لوگوں کو ایسے اعتراضوں سے روکتے ہیں جو خود آپ کی کتابوں اور آپ کے مذہب پر وارد ہوتے ہیں کیونکہ انصاف جن پر قوانین مبنی ہیں ایسی کارروائی کو صحت نیت میں داخل نہیں کرتا اور ہم ایسے اعتراضوں سے بھی آپ لوگوں کو منع کرتے ہیں جوان کتابوں اور ان شرائط پر مبنی نہیں جن کا ہم اشتہار میں ذکر کرتے ہیں کیونکہ ایسی کارروائی بھی تحقیق حق کے برخلاف ہے۔پس ہر ایک معترض پر واجب ہوگا کہ کسی اعتراض کے وقت ان کتابوں اور ان شرائط سے باہر نہ جائے اور ضروری ہوگا کہ اگر آپ صاحبوں میں سے کوئی صاحب ہماری کسی تالیف کا رد لکھے یا رد کے طور پر کوئی اشتہار شائع کریں یا کسی مجلس میں تقریری مباحثہ کرنا چاہیں تو ان شرائط مذکورہ بالا کی پابندی سے باہر قدم نہ رکھیں یعنی ایسی باتوں کو بصورت اعتراض پیش نہ کریں جو آپ لوگوں کی الہامی کتابوں میں بھی موجود ہوں اور ایسے اعتراض بھی نہ کریں جوان کتابوں کی پابندی اور اس طریق کی پابندی سے نہیں ہیں جو ہم اشتہار میں شائع کر چکے ہیں۔غرض اس طریق مذکورہ بالا سے تجاوز کر کے ایسی بیہودہ روایتوں اور بے سروپا قصوں کو ہمارے سامنے ہرگز پیش نہ کریں۔اور نہ شائع کریں۔“ ( آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلده اصفحه ۴ ۸ تا ۸۷ )