حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 398
حیات احمد ۳۹۸ جلد چهارم جاتی ہے اور اخیر نتیجہ صلح کاری اور ان شرارتوں کا دور ہو جانا ہے جو فتنوں اور بغاوتوں کی جڑھ ہوتے ہیں اور دن بدن مفاسد کو ترقی دیتے ہیں اور ہماری قلم جو ہر ایک وقت اس گورنمنٹ عالیہ کی مدح و ثناء میں چل رہی ہے اس قانون کے پاس ہونے سے اپنی گورنمنٹ کو دوسروں پر ترجیح دینے کے لئے ایک ایسا وسیع مضمون پائے گی جو آفتاب کی طرح چمکے گا اور اگر ایسا نہ ہوا تو خدا معلوم روز کی لڑائیوں اور بیہودہ جھگڑوں کی کہاں تک نوبت پہنچے گی ! بے شک اس سے پہلے تو ہین کے لئے دفعہ ۲۹۸ تعزیرات میں موجود ہے لیکن ان مراتب کے تصفیہ پاجانے سے پہلے فضول اور نکمی ہے اور خیانت پیشہ لوگوں کے لئے گریز گاہ وسیع ہے۔اور پھر ہم اپنے مخالف فریقوں کی طرف متوجہ ہو کر کہتے ہیں کہ آپ لوگ بھی برائے خدا ایسی تدبیر کو منظور کریں جس کا نتیجہ سراسر امن اور عافیت ہے اور اگر یہ احسن انتظام نہ ہوا تو علاوہ اور مفاسد اور فتنوں کے ہمیشہ سچائی کا خون ہوتا رہے گا اور صادقوں اور راستبازوں کی کوششوں کا کوئی نتیجہ عمدہ نہیں نکلے گا اور نیز رعایا کی باہمی نا اتفاقی سے گورنمنٹ کے اوقات بھی ناحق ضائع ہوں گے اس لئے ہم مراتب مذکورہ بالا کو آپ سب صاحبوں کی خدمت میں پیش کر کے یہ نوٹس آپ صاحبوں کے نام جاری کرتے ہیں اور آپ لوگوں کو یاد دلاتے ہیں کہ ہماری کتب مسلمہ مقبولہ جن پر ہم عقیدہ رکھتے ہیں۔اور جن کو ہم معتبر سمجھتے ہیں یہ تفصیل ذیل ہیں۔اول قرآن شریف۔مگر یادر ہے کہ کسی قرآنی آیت کے معنے ہمارے نزدیک وہی معتبر اور صحیح ہیں جس پر قرآن کے دوسرے مقامات بھی شہادت دیتے ہوں کیونکہ قرآن کی بعض آیات بعض کی تفسیر ہیں اور نیز قرآن کے کامل اور یقینی معنوں کے لئے اگر وہ یقینی مرتبہ قرآن کے دوسرے مقامات سے میسر نہ آسکے یہ بھی شرط ہے کہ کوئی حدیث صحیح مرفوع متصل بھی اس کی مفسر ہو۔غرض ہمارے مذہب میں تفسیر بالرائے ہرگز جائز نہیں