حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 393 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 393

حیات احمد ۳۹۳ جلد چهارم اور معزز تعلیم یافتہ اور ہر طبقہ کے لوگوں کے ہزاروں کی تعداد شامل تھی دستخط تھے اسی سلسلہ میں گورنمنٹ ہند کی توجہ کے لئے ایک میموریل بھی ارسال کیا گیا۔میں اس سلسلہ میں صرف بعض ضروری اقتباسات درج کروں گا۔وہ اصل آریہ دھرم وغیرہ کتابوں میں شامل ہیں۔نوٹس بنام آریه صاحبان و پا در بی صاحبان و دیگر صاحبان مذاہب مخالفان مسلمانوں کی طرف سے جن کے نام نیچے درج ہیں و نیز ایک التماس گورنمنٹ عالیہ کی توجہ کے لائق ”اے صاحبان مندرجہ عنوان نہایت ادب اور تہذیب سے آپ صاحبوں کی خدمت میں عرض ہے کہ ہم سب فرقے مسلمان اور ہندو اور عیسائی وغیرہ ایک ہی سرکار کے جو سرکار انگریزی ہے رعایا ہیں۔لہذا ہم سب لوگوں کا فرض ہے کہ ایسے امور سے دستکش رہیں جن سے وقتاً فوقتاً ہمارے حکام کو دقتیں پیش آویں یا بیہودہ نزا ئیں با ہمی ہو کر کثرت سے مقدمات دائر ہوتے رہیں اور نیز جب کہ ہمسائیگی اور قرب و جوار کے حقوق درمیان ہیں تو یہ بھی مناسب نہیں کہ مذہبی مباحثات میں حاشیہ۔پادری صاحبان اگر ہماری اس نصیحت کو غور سے سنیں تو بے شک اپنی بزرگی اور شرافت ہم پر ثابت کریں گے اور اس حق پسندی اور صلح کاری کے موجب ہوں گے جس سے ایک راست باز اور پاک دل شناخت کیا جاتا ہے۔اور وہ نصیحت صرف دو باتیں ہیں جو ہم پادری صاحبوں کی خدمت میں عرض کیا چاہتے ہیں۔اول۔یہ کہ وہ اسلام کے مقابل پر ان بیہودہ روایات اور بے اصل حکایات سے مجتنب رہیں جو ہماری مسلّم اور مقبول کتابوں میں موجود نہیں اور ہمارے عقیدہ میں داخل نہیں اور نیز قرآن کے معنی اپنے طرف سے نہ گھڑ لیا کریں بلکہ وہی معنی کریں جو تو اتر آیات قرآنی اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہوں اور پادری صاحبان اگر چہ انجیل کے معنے کرنے کے وقت ہر یک بے قیدی کے مجاز ہوں۔مگر ہم مجاز نہیں ہیں۔اور انہیں یا درکھنا چاہیے کہ