حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 388
حیات احمد ۳۸۸ جلد چهارم بات کی ہدایت ہوئی کہ وہ الہامی زبان اور اُم الالْسِنَہ جس کے لئے پارسیوں نے اپنی جگہ اور عبرانی والوں نے اپنی جگہ اور آریہ قوم نے اپنی جگہ دعوے کئے کہ انہیں کی وہ زبان ہے وہ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ ہے۔اور دوسرے تمام دعوے دار غلطی پر اور خطا پر ہیں۔اگر چہ ہم نے اس رائے کو سرسری طور پر ظاہر نہیں کیا بلکہ اپنی جگہ پر پوری تحقیقات کرلی ہے اور ہزار ہا الفاظ سنسکرت وغیرہ کا مقابلہ کر کے اور ہر یک لغت کے ماہروں کی کتابوں کو سن کر اور خوب عمیق نظر ڈال کر اس نتیجہ تک پہنچے ہیں کہ زبان عربی کے سامنے سنسکرت وغیرہ زبانوں میں کچھ بھی خوبی نہیں پائی جاتی بلکہ عربی کے الفاظ کے مقابل پر ان زبانوں کے الفاظ لنگڑوں۔لولوں۔اندھوں۔بہروں۔مبر وصوں۔مجزوموں کے مشابہ ہیں جو فطری نظام کو بکلی کھو بیٹھے ہیں اور کافی ذخیرہ مفردات کا جو کامل زبان کے لئے شرط ضروری ہے اپنے ساتھ نہیں رکھتے لیکن اگر ہم کسی آریہ صاحب یا کسی پادری صاحب کی رائے میں غلطی پر ہیں اور ہماری یہ تحقیقات ان کی رائے میں اس وجہ سے صحیح نہیں ہے کہ ہم ان زبانوں سے ناواقف ہیں تو اول ہماری طرف سے یہ جواب ہے کہ جس طرز سے ہم نے اس بحث کا فیصلہ کیا ہے اس میں کچھ ضروری نہ تھا کہ ہم سنسکرت وغیرہ زبانوں کے املاء انشاء سے بخوبی واقف ہو جائیں ہمیں صرف سنسکرت وغیرہ کے مفردات کی ضرورت تھی۔سو ہم نے کافی ذخیرہ مفردات کا جمع کر لیا اور پنڈتوں اور یورپ کے زبانوں کے ماہروں کی ایک جماعت سے ان مفردات کے ان معنوں کی بھی جہاں تک ممکن تھا تنقیح کرلی اور انگریز محققوں کی کتابوں کو بھی بخوبی غور سے سن لیا اور ان باتوں کو مباحثات میں ڈال کر بخوبی صاف کرلیا اور پھر سنسکرت وغیرہ زبانوں سے مکر رشہادت لے لی جس سے یقین ہو گیا که در حقیقت و یدک سنسکرت وغیرہ زبانیں ان خوبیوں سے عاری اور بے بہرہ ہیں جو عربی زبان میں ثابت ہوئیں۔