حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 387 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 387

حیات احمد ۳۸۷ جلد چهارم تھا۔چنانچہ آپ نے حسب ذیل اعلان شائع کیا۔یہ ایک نہایت عجیب و غریب کتاب ہے جس کی طرف قرآن شریف کی بعض پر حکمت آیات نے ہمیں توجہ دلائی سوقرآن عظیم نے یہ بھی دنیا پر ایک بھاری احسان کیا ہے جو اختلافات کا اصل فلسفہ بیان کر دیا اور ہمیں اس دقیق حکمت پر مطلع فرمایا کہ انسانی بولیاں کس منبع اور معدن سے نکلی ہیں اور کیسے وہ لوگ دھوکہ میں رہے جنہوں نے اس بات کو قبول نہ کیا کہ انسانی بولی کی جڑھ خدا تعالیٰ کی تعلیم ہے اور واضح ہو کہ اس کتاب میں تحقیق الالسنہ کی رو سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ دنیا میں صرف قرآنِ شریف ایک ایسی کتاب ہے جو اس زبان میں نازل ہوا ہے جو اُمُّ الْأَلْسِنَہ اور الہامی اور تمام بولیوں کا منبع اور سرچشمہ ہے۔یہ بات ظاہر ہے کہ الہی کتاب کی تمام تر زینت اور فضیلت اسی میں ہے جو ایسی زبان میں ہو جو خدا تعالیٰ کے منہ سے اور اپنی خوبیوں میں تمام زبانوں سے بڑھی ہوئی اور اپنے نظام میں کامل ہو اور جب ہم کسی زبان میں وہ کمال پاویں جس کے پیدا کرنے سے انسانی طاقتیں اور بشری بناوٹیں عاجز ہوں اور وہ خوبیاں دیکھیں جو دوسری زبانیں ان سے قاصر اور محروم ہوں اور وہ خواص مشاہدہ کریں جو بجز خدا تعالیٰ کے قدیم اور صحیح علم کے کسی مخلوق کا ذہن ان کا موجد نہ ہو سکے تو ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ وہ زبان خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے سو کامل اور عمیق تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ وہ زبان عربی ہے۔اگر چہ بہت سے لوگوں نے ان باتوں کی تحقیقات میں اپنی عمریں گزاریں اور بہت کوشش کی ہے جو اس بات کا پتہ لگا دیں کہ اُمُّ الْأَلْسِنَہ کونسی زبان ہے مگر چونکہ ان کی کوششیں خط مستقیم پر نہیں تھیں اور نیز خدا تعالیٰ سے توفیق یافتہ نہ تھے اس لئے وہ کامیاب نہ ہو سکے اور یہ بھی وجہ تھی کہ عربی زبان کی طرف اُن کی پوری توجہ نہیں تھی بلکہ ایک بخل تھا لہذا وہ حقیقت شناسی سے محروم رہ گئے اب ہمیں خدا تعالیٰ کے مقدس اور پاک کلام قرآن شریف سے اس