حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 386
حیات احمد ۳۸۶ جلد چهارم ۱۸۹۵ء لغایت ۱۸۹۷ء کے متفرق واقعات اب تک بعض واقعات کے سلسلہ کے دوران کی وجہ سے میں نے یہی پسند کیا کہ ہر طویل واقعہ ء حیات یک جائی طور پر سامنے آجاوے اب میں ۱۸۹۵ء سے ۱۸۹۷ء تک کے ان واقعات کا ذکر کرتا ہوں جو لمبا سلسلہ نہیں رکھتے۔تصانیف کا سلسلہ قبل اس کے کہ میں ان واقعات کو بیان کروں یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ عیسائیوں سے مباحثہ کے بعد آپ کی تائید و نصرت میں مختلف قسم کے آسمانی نشان متواتر ظاہر ہونے لگے اور آپ کی متحدیانہ تصانیف کا سلسلہ ایک آبشار کی طرح بہنے لگا اور خصوصیت سے عربی زبان میں آپ نے ہر قسم کے مخالفوں کو مقررہ انعامات کو پیش کر کے دعوت مقابلہ دی اور کوئی نہ آیا اور یہ سلسلہ ء تصانیف بڑھتا چلا گیا۔اور عجیب بات یہ ہے کہ ہر تصنیف خواہ اس کا موضوع خاص کچھ بھی ہو اس کا مقصد اصلی اسلام اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات اور قرآن کریم کے اعجاز کو ظاہر کرنا ہے۔۱۸۹۲-۹۳ء میں چند عربی تصانیف جن میں سے ہر ایک کے ساتھ بیش قرار انعامات مقرر تھے شائع ہوئیں جن کا ذکر پہلے آچکا ہے مگر ۱۸۹۵ء کے تصانیف کے سلسلہ میں آپ نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر ایک ایسی کتاب کی تصنیف کا اعلان کیا جو عالم لسانیات کے لئے انقلاب آفرین تھی۔مِنَنُ الرَّحمن کی تصنیف یہ کتاب جس نے ماہرین عِلمُ الالسنہ کو حیران کر دیا من الرحمن تھی اور اسی میں آپ نے دعویٰ کیا کہ عربی زبان ہی اُم الالسنہ ہے۔اور دنیا کی تمام زبانیں مختلف ادوار کے انقلاب میں گزرتی ہوئی بھی ثابت کرتی ہیں کہ ان کی اصل عربی زبان ہے۔یہ کتاب گو ایک علمی تصنیف ہے مگر اس کی اشاعت سے مقصد قرآن کریم کی عظمت کا اظہار