حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 362
حیات احمد ۳۶۲ جلد چهارم سے اور نہ کسی خانگی طور سے۔اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ کسی منصف کا کانشنس ہرگز یہ گواہی نہیں دے گا کہ درحقیقت واقعی طور پر یہ حملے ہوئے تھے میں دشمنوں سے اس وقت یہ امید نہیں رکھتا کہ وہ اپنے کانشنس سے مجھ کو اطلاع دیں مگر ایک حق پسند کے لئے یہ ثبوت تسلی بخش ہے کہ آتھم نے ان چار الزاموں میں سے کسی الزام کو ثابت نہیں کیا بلکہ قسم کھانے سے بھی اعراض کیا جس سے بآسانی صفائی ہو سکتی تھی۔اور اس سوال کا جواب ہر یک منصف کا کانشنس دے سکتا ہے کہ ان بہتانوں کے لئے اس کو کون سی ضرورت پیش آئی تھی۔کیا بجز اس کے اور بھی کوئی ضرورت عقل میں آسکتی ہے کہ اس نے بہتانوں کے ساتھ اپنے اس خوف پر پردہ ڈالنا چاہا جو اس کی سراسیمگی کی وجہ سے ہر ایک شخص پر ظاہر ہو چکا تھا۔کیا عقل باور کرسکتی ہے کہ جس کی جان لینے کے لئے ہم نے سوکوس تک تعاقب کیا اور بار بار حملے کئے اس کے منہ پر اخیر میعاد تک مہر لگی رہی اور نہ صرف اس کے منہ پر بلکہ ان سب کے منہ پر جنہوں نے ایسے حملہ آوروں کو دیکھا تھا۔نہ نالش کرنا نہ قسم کھانا نہ خانگی طور پر کوئی گواہ پیش کرنا کیا یہ وہ علامات ناطقہ نہیں ہیں جن سے اصل حقیقت کھلتی ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ صرف پیشگوئی کی شرط سے لوگوں کے خیالات ہٹانے کے لئے یہ حرکت مذبوحی تھی۔مگر تاہم اگر اب تک کسی عیسائی کو آٹھم کے اس افترا پر شک ہو تو آسمانی شہادت سے رفع شک کرالیوے آتھم تو پیشگوئی کے مطابق فوت ہو گیا اب وہ اپنے تیں اس کا قائمقام ٹھہرا کر آتھم کے مقدمہ میں قسم کھا لیوے اس مضمون سے کہ آتھم پیشگوئی کی عظمت سے نہیں ڈرا بلکہ اس پر یہ چار حملے ہوئے تھے اگر یہ قسم کھانے والا بھی ایک سال تک بچ گیا تو دیکھو میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ میں اپنے ہاتھ سے شائع کردوں گا کہ میری پیشگوئی غلط نکلی۔اس قسم کے ساتھ کوئی شرط نہ ہوگی۔یہ نہایت صاف فیصلہ ہو جائے گا۔اور جو شخص خدا کے نزدیک باطل پر ہے اس کا بطلان