حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 361 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 361

حیات احمد جلد چهارم جیسا کہ اس نے حق کو چھپایا خدا نے اپنے وعدے کے موافق اس کے وجود کو اس کے ہم مذہب لوگوں کی نظر سے چھپا لیا اور جیسا کہ اس نے وعدہ کیا تھا۔ویسا ہی ظہور میں آیا۔تمیں آکر دسمبر ۱۸۹۵ء تک ہماری طرف سے اس کو تبلیغ ہوتی رہی کہ شاید وہ خدا تعالیٰ سے خوف کر کے سچی گواہی ادا کر دے۔پھر ہم نے تبلیغ کو چھوڑ دیا اور خدا تعالیٰ کے وعدہ کے انتظار میں لگے سو آتھم صاحب نے ۳۰ / دسمبر ۱۸۹۵ء میں سے ابھی سات مہینے ختم نہیں کئے تھے کہ قبر میں جاپڑے۔“ آتھم کے کسی قائمقام کو چیلنج انجام آتھم ، روحانی خزائن جلدا اصفحه ۲ تا ۴ ) آتھم کے مرجانے کے بعد باوجود پیش گوئی پورا ہو جانے کے بعد عیسائیوں نے اپنے رویہ کو بدلا نہیں۔بلکہ سستی شہرت کے لئے کوئی نہ کوئی اعتراض کرتے رہے اور اس کا فوری جواب تحریراً دیا جاتا رہا۔بالآخر حضرت نے پسند کیا کہ ایسے تمام معترضین کو بھی آسمانی فیصلہ کی طرف دعوت دی جائے۔قارئین کرام کو ضرور حیرت ہوگی کہ جب بھی کسی مخالف کو آپ نے قسم کے ذریعہ آسمانی فیصلہ کی دعوت دی تو اسے ہمت نہ پڑتی کہ مقابلہ میں آکر قسم کھائے اور اس طرح پر آپ نے اتمام حجت کے ذریعہ اپنی صداقت کا ثبوت پیش کر دیا۔آتھم کی موت کے بعد بھی بعض عیسائی کہتے رہے کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔اسی لئے آپ نے اسی انجام آتھم میں آسمانی فیصلہ کے لئے ایسے لوگوں کو آخری چیلنج دیا لکھا کہ میں اپنے اشتہارات انوار الاسلام وغیرہ اور ضیاء الحق میں نہایت دلائل قاطعہ سے ثابت کر چکا ہوں کہ آتھم کا یہ نہایت گندہ جھوٹ ہے کہ اس نے ان حملوں کا میرے پر الزام لگایا اور ایک راستباز انسان کی طرح کبھی یہ ارادہ نہ کیا کہ اس الزام کو ثابت کرے نہ نالش سے نہ بذریعہ پولیس ثبوت دینے سے اور نہ قسم کھانے