حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 354
حیات احمد ۳۵۴ جلد چهارم ہمیں اطلاع دیں کہ کس عدد کے پیش کرنے پر وہ آتھم صاحب سے قسم دلاویں گے۔کیا ہزار یا دو ہزار یا تین ہزار یا چار ہزار آدمی کے دستخط پر ان کا پندرہ کا دعوی باطل ہو جائے گا یا نہیں۔ہم ہر طرح اس بات کا تصفیہ کرنا چاہتے ہیں۔پادری فتح مسیح صاحب کو چاہیے کہ وہ جلد اطلاع دیں کہ پندرہ سے زیادہ ان کی اصطلاح میں کس قدر جماعت کا نام ہے۔اور ان کے نزدیک جس قدر کا نام کلیسیا ہے۔وہ جماعت کس عدد تک ہے تا اسی قدر جماعت کے دستخط کرا کر ان کے پاس بھیجے جائیں۔اور ان کے ذمہ ہوگا کہ ایسے محضر نامہ کے پہنچنے کے بعد فی الفور آتھم صاحب کو میدان میں لاویں اور اگر وہ اشتہار کے شائع ہونے کی تاریخ سے ہیں دن تک ایسی درخواست نہ بھیجیں تو ایک دوسرے اشتہار سے ان کی دروغ گوئی شائع کی جائے گی۔ہم خوب جانتے ہیں کہ اگر چہ دس ہزار مسلمانوں کا بھی یہ تحریری بیان پیش کیا جائے کہ آتھم صاحب کے متعلق پیش گوئی سچی نکلی ہے۔مگر تب بھی آتھم صاحب ہر گز فتسم نہ کھائیں گے۔اگر پادری صاحبان ملامت کرتے کرتے ان کو ذبح بھی کر ڈالیں تب بھی وہ میرے مقابل پر قسم کھانے کے لئے ہر گز نہیں آئیں گے کیونکہ وہ دل میں جانتے ہیں کہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔میری سچائی کے لئے یہ نمایاں دلیل کافی ہے کہ آتھم صاحب میرے مقابل پر میرے مواجہ میں ہرگز فتم نہیں اٹھا ئیں گے۔اگر چہ عیسائی لوگ ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں اور اگر وہ قسم کھا لیں تو یہ پیشگوئی بلاشبہ دوسرے پہلو پر پوری ہو جائے گی۔خدا کی باتیں ٹل نہیں سکتیں۔بد بخت انسان چاہتا ہے کہ اپنے منہ کی پھونکوں سے سچائی کے نور کو بجھا دے مگر وہ نور جو آسمان سے نازل ہوتا ہے اس کی الہی طاقت محافظ ہوتی ہے وہ کسی کے بجھائے سے بجھ نہیں سکتا۔اب ہم منتظر رہیں گے کہ پادری فتح مسیح کی طرف سے کیا جواب آتا ہے۔مگر یاد رکھنا چاہیے کہ کوئی ایسا جواب