حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 25 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 25

حیات احمد ۲۵ جلد چهارم بے ادبیاں کی ہیں۔جن کے تصور سے بھی بدن کانپتا ہے۔اس کی کتابیں بھی عجیب طور کی تحقیر اور تو ہین اور دشنام دہی سے بھری ہوئی ہیں۔کون مسلمان ہے جو ان کتابوں کو سنے۔اور اس کا دل اور جگر ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو۔باایں ہمہ شوخی و خیرگی یہ شخص سخت جاہل ہے۔عربی سے ذرہ مس نہیں۔بلکہ دقیق اردو لکھنے کا بھی مادہ نہیں۔اور یہ پیشگوئی اتفاقی نہیں بلکہ اس عاجز نے خاص اسی مطلب کے لئے دعا کی۔جس کا یہ جواب ملا۔اور یہ پیشگوئی مسلمانوں کے لئے بھی نشان ہے۔کاش ! وہ حقیقت کو سمجھتے اور ان کے دل نرم ہوتے۔اب میں اسی خدائے عزّ وَجَلَّ کے نام پر ختم کرتا ہوں جس کے نام سے شروع کیا تھا۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَالصَّلَوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُوْلِهِ مُحَمَّدُ الْمُصْطَفَى أَفْضَلُ الرُّسُلِ وَخَيْرِ الْوَرى سَيِّدُنَا وَ سَيِّدُ كُلِّ مَا فِي الْأَرْضِ وَالسَّمَاءِ خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء تبلیغ رسالت جلد سوم صفحه ۴ تا ۶ - مجموعه اشتہارات جلد ا صفحه ۴ ۳۰، ۳۰۵ طبع بار دوم ) جیسا کہ مندرجہ بالا اعلانات سے واضح ہوتا ہے یہ پیش گوئی اگر چہ ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء کو کی گئی تھی۔دراصل اس کی بنیاد تو ۱۸۸۵ء سے پڑی تھی جب کہ پنڈت لیکھرام صاحب قادیان به تحریک مرزا امام الدین صاحب ( جو حضرت اقدس کے بنی عم اور شدید مخالف تھے ) قادیان آئے اس زمانہ کی خط و کتابت میں مکتوبات احمدیہ کی جلد دوم میں شائع کر چکا ہوں۔سب سے آخری خط میں جو دسمبر ۱۸۸۵ء کے دوسرے ہفتہ میں لکھا اس نے نہایت شوخی سے تحریر کیا کہ