حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 337
حیات احمد ۳۳۷ جلد چهارم نے جھوٹ بولا ہے اور حق کے برخلاف کہا ہے۔تو مجھے ذلت اور دکھ کے عذاب سے ہلاک کر اور جس کی میں نے تکذیب کی ہے اس کو میری ذلت اور میری تباہی اور میری موت دکھا دے۔اور اس دعا کے ساتھ ہر ایک دفعہ ہم آمین کہیں گے۔اور تین مرتبہ دعا ہوگی اور تین مرتبہ ہی آمین اور بعد اس کے بلا توقف اس قسم کھانے والے کو دوسو روپیہ نقد دیا جائے گا اور ہم واپسی کی شرط نہیں کرتے ہمارے لئے یہ کافی ہے کہ ان لوگوں میں سے کوئی سخت موذی عذاب الہی میں مبتلا ہوکر ہلاک ہو اور لوگ عبرت پکڑیں اور راہ راست پر آویں اور شیاطین کے پنجہ سے مخلصی پاویں، لیکن اگر کوئی اب بھی باز نہ آوے اور بے جا تکذیب سے زبان بند نہ کرے تو وہ صریح ظالم اور خد تعالیٰ کی کتاب سے منہ پھیر نے والا ہے۔پس حق کے طالبوں کو چاہیے کہ ایسے دروغ گو اور مفسد کی کسی بات پر اعتماد نہ کریں کیونکہ اس نے سچائی کی طرف رخ نہیں کیا اور دانستہ جھوٹ کی پیروی کی۔اس سے زیادہ ہم کیا لکھیں اور کیا کہیں اور کس طور سے ایسے لوگوں کو سمجھاویں جو دانستہ طور سے حق سے منہ پھیر رہے ہیں۔اگر ہمارے مخالف سچے ہیں تو اس طریق فیصلہ کو قبول کریں ورنہ جولوگ صاف اور سچے فیصلہ سے انکار کریں اور تکذیب سے باز نہ آویں تو ان پر نہ انسان بلکہ فرشتے لعنت کرتے ہیں۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى را تم غلام احمد از قادیان ستمبر ١٨٩٢ء تبلیغ رسالت جلد ۳ صفحه ۱۱۹ تا ۱۲۳) یہ اشتہار پانچیز ارشائع کیا گیا)۔مجموعہ اشتہارات جلدا صفحه ۴۰ تا ۳ ۴۰ طبع بار دوم )