حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 333 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 333

حیات احمد ۳۳۳ جلد چهارم ہے کہ خدا اپنی قرار دادہ شرطوں کو بھول جائے کیونکہ شرائط کا لحاظ رکھنا صادق کے لئے ضروری ہے۔اور خدا أَصْدَقُ الصَّادِقِينَ ہے۔ہاں جس وقت مسٹر عبد اللہ آتم اس شرط کے نیچے سے اپنے تئیں باہر کرے اور اپنے لئے اپنی شوخی اور بے باکی سے ہلاکت کے سامان پیدا کرے تو وہ دن نزدیک آجائیں گے اور سزائے ہاویہ کامل طور پر نمودار ہوگی۔اور پیشگوئی عجیب طور پر اپنا اثر دکھائے گی۔اور توجہ سے یادرکھنا چاہیے کہ ہادیہ میں گرائے جانا جو اصل الفاظ الہام ہیں۔وہ عبداللہ آتھم نے اپنے ہاتھ سے پورے کئے اور جن مصائب میں اس نے اپنے تئیں ڈال لیا اور جس طرز سے مسلسل گھبراہٹوں کا سلسلہ اس کے دامن گیر ہو گیا اور ہول اور خوف نے اس کے دل کو پکڑ لیا یہی اصل ہادیہ تھا اور سزائے موت اس کے کمال کے لئے ہے جس کا ذکر الہامی عبارت میں موجود بھی نہیں بے شک یہ مصیبت ایک ہاویہ تھا۔جس کو عبد اللہ آتھم نے اپنی حالت کے موافق بھگت لیا۔لیکن وہ بڑا ہا و یہ جو موت سے تعبیر کیا گیا ہے اس میں کسی قدر مہلت دی گئی کیونکہ حق کا رعب اس نے اپنے سر پر لے لیا۔اس لئے وہ خدا تعالیٰ کی نظر میں اس شرط سے کسی قدر فائدہ اٹھانے کا مستحق ہو گیا جو الہامی عبارت میں درج ہے۔اور ضرور ہے کہ ہر ایک امر کا ظہور اسی طور سے ہو جس طور سے خدا تعالیٰ کے الہام میں وعدہ ہوا۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اس ہمارے بیان میں وہی شخص مخالفت کرے گا جس کو مسٹر عبداللہ آتھم کے ان تمام واقعات پر پوری اطلاع نہ ہوگی۔اور یا جو تعصب اور بخل اور سیہ دلی سے حق پوشی کرنا چاہتا ہے۔اور اگر عیسائی صاحبان اب بھی جھگڑیں اور اپنی مکارانہ کارروائیوں کو کچھ چیز سمجھیں یا کوئی اور شخص اس میں شک کرے تو اس بات کے تصفیہ کے لئے فتح کس کو ہوئی آیا اہلِ اسلام کو جیسا کہ درحقیقت ہے یا عیسائیوں کو جیسا کہ وہ ظلم کی راہ سے