حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 332 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 332

حیات احمد وو ۳۳۲ جلد چهارم الہامی عبارت میں شرطی طور پر عذاب موت کے آنے کا وعدہ تھا نہ مطلق بلا شرط وعدہ لیکن خدا تعالیٰ نے دیکھا کہ مسٹر عبداللہ آتھم نے اپنے دل کے تصورات سے اور اپنے افعال سے اور اپنے حرکات سے اور اپنے خوف شدید سے اور اپنے ہولناک اور ہراساں دل سے عظمت اسلامی کو قبول کیا اور یہ حالت ایک رجوع کرنے کی قسم ہے جو الہام کے استثنائی فقرہ سے کسی قدر تعلق رکھتی ہے کیونکہ جو شخص عظمت اسلامی کورڈ نہیں کرتا بلکہ اس کا خوف اُس پر غالب ہوتا ہے وہ ایک طور سے اسلام کی طرف رجوع کرتا ہے اور اگر چہ ایسا رجوع عذاب آخرت سے بچا نہیں سکتا مگر عذاب دنیوی میں بے باکی کے دنوں تک ضرور تاخیر ڈال دیتا ہے۔یہی وعدہ قرآن کریم اور بائیبل میں موجود ہے۔اور جو کچھ ہم نے مسٹر عبد اللہ آتھم کی نسبت اور اس کے دل کی حالت کے بارہ میں بیان کیا یہ باتیں بے ثبوت نہیں بلکہ مسٹر عبداللہ آتھم نے اپنے تئیں سخت مصیبت زدہ بنا کر اور اپنے تئیں شدائد غربت میں ڈال کر اپنی زندگی کو ایک ماتمی پیرا یہ پہنا کر اور ہر روز خوف اور ہر اس کی حرکات صادر کر کے اور ایک دنیا کو اپنی پریشانی اور دیوانہ پن دکھلا کر نہایت صفائی سے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ اس کے دل نے اسلامی عظمت اور صداقت کو قبول کرلیا۔کیا یہ بات جھوٹ ہے کہ اس نے پیشگوئی کے رُعب ناک مضمون کو پورے طور پر اپنے پر ڈال لیا اور جس قدر ایک انسان ایک سچی اور واقعی بلا سے ڈرسکتا ہے اسی قدر وہ اس پیشگوئی سے ڈرا۔اس کا دل ظاہری حفاظتوں سے مطمئن نہ ہو سکا اور حق کے رعب نے اس کو دیوانہ سا بنادیا۔سو خدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ اس کو ایسی حالت میں ہلاک کرے کیونکہ یہ اس کے قانون قدیم اور سُنّتِ قدیمہ کے مخالف ہے اور نیز یہ الہامی شرط سے مغائر اور برعکس ہے۔اور اگر الہام اپنی شرائط کو چھوڑ کر اور طور پر ظہور کرے تو گو جاہل لوگ اس سے خوش ہوں مگر ایسا الہام الہام الہی نہیں ہوسکتا۔اور یہ غیر ممکن