حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 331
حیات احمد ۳۳۱ جلد چهارم مارٹن کلارک کی کوٹھی پر عیسائیوں نے بڑا جشن منایا ہے وہیں اس کا مردہ بھی ہوگا۔“ میں نماز پڑھ کر سیدھا پادری ہنری مارٹن کلارک کی کوٹھی کی طرف دوڑا۔کوٹھی شہر سے باہر خاصے فاصلہ پر تھی۔میں دوڑتا ہوا سیدھا وہاں پہنچا دیکھا کہ پادری کلارک صاحب کی کوٹھی کے صحن میں شامیانہ تنا ہوا ہے کرسیاں میز لگے ہوئے ہیں اور بہت سے عیسائی جمع ہیں اور چاء کی پارٹی ہورہی ہے۔سامنے ایک کرسی پر عبداللہ آتھم بیٹھا ہوا تھا۔لیکن بے حس و حرکت میں اس کی طرف دیکھتا رہا۔اور کچھ عرصہ دیکھنے کے بعد مجھے بھی یہی گمان ہوا کہ یہ واقعی لاش ہے۔جو ایک کرسی پر رکھی ہوئی ہے۔نہ بولے نہ کوئی حرکت کرے۔یہاں تک کہ پلکیں تک نہ جھپکتی تھیں۔اب تو مجھے بڑا شوق ہوا کہ اسے نزدیک سے دیکھوں۔چنانچہ ایک صاحب سے جو چاء کے مہتمم تھے۔میں نے کہا کہ میں آٹھم صاحب سے ملنا چاہتا ہوں۔اس پر وہ مجھے آتھم صاحب کے پاس لے گیا۔اور ان کے سامنے کی کرسی پر بیٹھ گیا۔تب مجھے یقین ہوا کہ وہ زندہ ہیں۔لیکن سچ یہی تھا کہ مردوں سے بدتر تھے۔آٹھم صاحب بولے کہ دیکھئے شہر کے لوگ کہتے ہیں کہ میں مر چکا ہوں اور کبھس بھر کر مجھے بٹھایا ہوا ہے۔میں نے کہا ”ہاں میں بھی یہی افواہ سن کر آپ کو دیکھنے آیا ہوں۔( دل میں کہا کہ واقعی ذرا فاصلہ سے تو آپ بھس بھرے ہوئے زندہ لاش سے نظر آتے ہیں) فتح اسلام امرت سر میں اس پیش گوئی کا عام چرچا تھا۔مکرم مرزا اسماعیل مرحوم حضرت کا اشتہار فتح اسلام لائے تھے۔آپ نے اس کو قادیان میں ۵ ستمبر ۱۸۹۴ء کو ہی سنا دیا تھا۔امرتسر میں ہم نے فوراً اسے تیار کرا کر ۶ ستمبر ۱۸۹۴ء ہی کو بعد دو پہر شائع کر دیا۔اور کثرت سے پھیلایا گیا۔اس سلسلہ میں حضرت نے چار متواتر اشتہارات انعامی شائع کئے۔جن میں آتھم کو پیشگوئی کے شرط رجوع کے موافق فائدہ اٹھانے پر انعامی چیلنج کیا تھا کہ وہ مقابلہ میں آکر قسم کھالے چنانچہ آپ نے فرمایا کہ