حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 24
حیات احمد ۲۴ جلد چهارم ہو گیا لیکن لیکھرام نے بڑی دلیری سے ایک کارڈ اس عاجز کی طرف روانہ کیا کہ میری نسبت جو پیش گوئی چاہو شائع کر دو میری طرف سے اجازت ہے۔سو اس کی نسبت جب توجہ کی گئی تو اللہ جل شانہ کی طرف سے یہ الہام ہوا۔عِجْلٌ جَسَدٌ لَّهُ خُوَارٌ۔لَهُ نَصَبٌ وَّ عَذَابٌ یعنی یہ صرف ایک بے جان گوسالہ ہے۔جس کے اندر سے ایک مکروہ آواز نکل رہی ہے۔اور اس کے لیے ان گستاخیوں اور بدزبانیوں کے عوض میں سزا اور رنج اور عذاب مقدر ہے۔جو اس کو ضرور مل کر رہے گا۔اور اس کے بعد آج جو ۲۰ فروری ۱۸۹۳ ء روز دوشنبہ ہے اس عذاب کا وقت معلوم کرنے کے لئے توجہ کی گئی تو خداوند کریم نے مجھ پر ظاہر کیا کہ آج کی تاریخ سے جو ۲۰ / فروری ۱۸۹۳ء ہے، چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بد زبانیوں کی سزا میں یعنی ان بے ادبیوں کی سزا میں جو اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں کی ہیں عذاب شدید میں مبتلا ہو جائے گا۔سواب میں اس پیشگوئی کو شائع کر کے تمام مسلمانوں اور آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں۔کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ اس کی روح سے میرا یہ نطق ہے۔اور اگر میں اس پیشگوئی میں کا ذب نکلا تو ہر ایک سزا کے بھگتنے کے لئے میں تیار ہوں اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رسہ ڈال کر کسی سولی پر کھینچا جائے اور باوجود میرے اس اقرار کے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ کسی انسان کا اپنی پیشگوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔زیادہ اس سے کیا لکھوں واضح رہے کہ اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت ☆ اب آریوں کو چاہیے کہ سب مل کر دُعا کریں کہ یہ عذاب ان کے اس وکیل سے مل جائے۔منہ