حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 323 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 323

حیات احمد ۳۲۳ جلد چهارم بس یہی کہ یہ مقابلہ شیخ صاحب کی طاقت سے باہر ہے سو نا چارانہوں نے اپنی رسوائی کو قبول کر لیا اور اس طرف رخ نہ کیا۔یہ اسی الہام کی تصدیق ہے کہ اِنِّی مُهِينٌ مَنْ اَرَادَ اهانتک شیخ صاحب نے منبروں پر چڑھ چڑھ کر صد ہا آدمیوں میں صد با موقعوں پر بار بار اس عاجز کی نسبت بیان کیا کہ یہ شخص زبان عربی سے محض بے خبر اور علوم دین سے محض نا آشنا ہے ایک جاہل آدمی ہے اور کذاب اور دجال ہے۔اور اسی پر بس نہ کیا بلکہ صد ہا خط اسی مضمون کے اپنے دوستوں کو لکھے اور اپنے جاہل دوستوں کے دلوں میں بٹھا دیا کہ یہی سچ ہے سو خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اس متکبر کا غرور توڑے اور اس گردن کش کی گردن کو مروڑے اور اس کو دکھلاوے کہ کیونکر وہ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے۔سو اس کی توفیق اور مدد اور خاص اس کی تعلیم اور تفہیم سے یہ کتابیں تالیف ہوئیں۔اور ہم نے کرامات الصادقین اور نور الحق کے لئے آخری تاریخ درخواست مقابلہ کی اس مولوی اور تمام مخالفوں کے لئے اخیر جون ۱۸۹۴ء مقرر کی تھی جو گزر گئی اور اب دونوں کتابوں کے بعد یہ کتاب سر الخلافة تالیف ہوئی ہے جو بہت مختصر ہے اور نظم اس کی کم ہے اور ایک عربی دان شخص ایسا رسالہ سات دن میں بہت آسانی سے بنا سکتا ہے اور چھپنے کے لئے دس دن کافی ہیں لیکن ہم شیخ صاحب کی حالت اور اس کے دوستوں کی کم مائیگی اور بہت ہی رحم کر کے دس دن اور زیادہ کر دیتے ہیں۔اور یہ ستائیس دن ہوئے سو ہم فی دن ایک روپیہ کے حساب سے ستائیس روپیہ کے انعام پر یہ کتاب شائع کرتے ہیں۔اور شیخ صاحب اور ان کے اسمی مولویوں کی خدمت میں التماس ہے کہ اگر وہ اپنی سُوءٍ قسمت سے ہزار روپیہ کا انعام لینے سے محروم رہے اور پھر پانچ ہزار روپیہ کا انعام پیش کیا گیا تو وہ وقت بھی ان کی کم مائیگی کی وجہ سے ان کے ہاتھ سے جاتا رہا اور تاریخ درخواست گزرگئی اب وہ ستائیس روپیہ کو تو نہ چھوڑیں۔“ سر الخلافة، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۹۸ تا ۴۰۱)