حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 322 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 322

حیات احمد ۳۲۲ جلد چهارم رسالہ نور الحق بھی عربی میں تالیف کیا۔اور میں نے صاف صاف اشتہار دے دیا کہ اگر شیخ صاحب یا تمام مکفر مولویوں سے کوئی صاحب رسالہ کرامات الصادقین کے مقابل پر کوئی رسالہ تالیف کریں تو ایک ہزار روپیہ ان کو انعام ملے گا۔اور اگر نور الحق کے مقابل پر رسالہ لکھیں تو پانچ ہزار رو پید ان کو دیا جائے گا۔لیکن وہ لوگ بالمقابل لکھنے سے بالکل عاجز رہ گئے۔اور جو تاریخ ہم نے اس درخواست کے لئے مقرر کی تھی یعنی اخیر جون ۱۸۹۴ ء وہ گزرگئی۔شیخ صاحب کی اس خاموشی سے ثابت ہو گیا کہ وہ علم عربی سے آپ ہی بے بہرہ اور بے نصیب ہیں اور نہ صرف یہی بلکہ یہ بھی ثابت ہوا کہ وہ اوّل درجہ کے دروغ گو اور کا ذب اور بے شرم ہیں کیونکہ انہوں نے تقریر و تحریر صاف اشتہار دے دیا تھا کہ یہ شخص علم عربی سے محروم اور جاہل ہے یعنی ایک لفظ تک عربی سے نہیں جانتا تو پھر ایسے ضروری مقابلہ کے وقت جس میں اُن پر فرض ہو چکا تھا کہ وہ اپنی علمیت ظاہر کرتے کیوں ایسے چپ ہو گئے کہ گویا وہ اس دنیا میں نہیں ہیں۔خیال کرنا چاہیے کہ ہم نے کس قدر تاکید سے ان کو میدان میں بلایا اور کن کن الفاظ سے ان کو غیرت دلانا چاہا مگر انہوں نے اس طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ہم نے صرف اس خیال سے کہ شیخ صاحب کی عربی دانی کا دعوی بھی فیصلہ پا جائے رسالہ نور الحق میں یہ اشتہار دے دیا کہ اگر شیخ صاحب عرصہ تین ماہ میں اسی قدر کتاب تحریر کر کے شائع کر دیں اور وہ کتاب در حقیقت جمیع لوازم بلاغت و فصاحت و التزام حق اور حکمت میں نورالحق کے ثانی ہو تو تین ہزار روپیہ نقد بطور انعام شیخ صاحب کو دیا جائے گا اور نیز الہام کو جھوٹا ٹھہرانے کے لئے بھی ایک سہل اور صاف راستہ ان کومل جائے گا۔اور ہزار لعنت کے داغ سے بھی بچ جائیں گے۔ورنہ وہ نہ صرف مغلوب بلکہ الہام کے مصدق ٹھہریں گے۔مگر شیخ صاحب نے ان باتوں میں سے کسی بات کی بھی پرواہ نہ کی اور کچھ بھی غیرت مندی نہ دکھلائی۔اس کا کیا سبب تھا؟