حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 23
حیات احمد ۲۳ جلد چهارم حضرت اقدس پر مزید انکشاف ہوئے جن کو آپ نے ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء کو ایک اعلان کے ذریعہ شائع کیا جو یہ ہے۔واضح ہو کہ اس عاجز نے اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں جو اس کتاب کے ساتھ شامل کیا گیا تھا۔اندر من مراد آبادی اور لیکھرام پشاوری کو اس بات کی دعوت کی تھی کہ اگر وہ خواہش مند ہوں تو ان کی قضا و قدر کی نسبت بعض پیش گوئیاں شائع کی جائیں۔سو اس اشتہار کے بعد اندرمن نے تو اعراض کیا اور کچھ عرصہ کے بعد فوت بقیہ حاشیہ۔زاہد ظاہر پرست از حال ما آگاه نیستی در حق ما ہر چہ گوید جائے پیچ اکراہ نیست اور باوجود اس رحمت عام کے کہ جو فطرتی طور پر خدائے بزرگ و برتر نے ہمارے وجود میں رکھی ہے اگر کسی کی نسبت کوئی بات ناملائم یا کوئی پیش گوئی وحشت ناک بذریعہ الہام ہم پر ظاہر ہو تو وہ عالم مجبوری ہے۔جس کو ہم غم سے بھری ہوئی طبیعت کے ساتھ اپنے رسالے میں تحریر کریں گے۔چنانچہ ہم پر خود اپنی نسبت اپنے بعض جدی اقارب کی نسبت اپنے بعض دوستوں کی نسبت اور بعض اپنے فلاسفر قومی بھائیوں کی نسبت کہ گویا نجم الہند ہیں۔اور ایک دیسی امیر نو وار دو پنجابی الاصل کی نسبت بعض متوحش خبریں جو کسی کے ابتلا اور کسی کی موت وفوت اعزہ اور کسی کی خود اپنی موت پر دلالت کرتی ہیں۔جو انشاء اللہ القدیر بعد تصفیہ لکھی جائیں گی۔منجانب اللہ منکشف ہوئی ہیں۔اور ہر ایک کے لئے ہم دعا کرتے ہیں کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ اگر تقدیر معلق ہو تو دعاؤں سے بفضلہ تعالیٰ مل سکتی ہے۔اسی لئے رجوع کرنے والی مصیبتوں کے وقت مقبولوں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور شوخیوں اور بیرا ہیوں سے باز آجاتے ہیں۔با ایں ہمہ اگر کسی صاحب پر کوئی ایسی پیش گوئی شاق گزرے تو وہ مجاز ہیں کہ یکم مارچ ۱۸۸۶ء سے یا اس تاریخ سے جو کسی اخبار میں پہلی دفعہ یہ مضمون شائع ہو۔ٹھیک ٹھیک دو ہفتہ کے اندر اپنی د تخطی تحریر سے مجھ کو اطلاع دیں تا وہ پیش گوئی جس کے ظہور سے وہ ڈرتے ہیں اندراج رسالہ سے علیحدہ رکھی جائے۔اور موجب دل آزاری سمجھ کر کسی کو اس پر مطلع نہ کیا جاوے اور کسی کو اس ظہور سے خبر نہ دی جائے۔“ تبلیغ رسالت جلد اصفحه ۵۶ تا ۵۸ - مجموعه اشتہارات جلد ا صفحه ۹۴ ، ۹۵ طبع بار دوم ) ترجمہ۔کوئی ظاہر پرست زاہد ہمارے حال سے واقف نہیں، اس لئے ہمارے متعلق وہ جو کچھ بھی کہے بُرا منانے کی کوئی وجہ نہیں۔