حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 315 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 315

حیات احمد ۳۱۵ جلد چهارم رسل بابا صاحب کے رسالہ کو پڑھ کر اور ایسا ہی ہمارے رسالہ کو اوّل سے آخر تک دیکھ کر ایک عام جلسہ میں قسم کھا جائیں اور قسم کا یہ مضمون ہو کہ اے حاضرین! بخدا میں نے اوّل سے آخر تک دونوں رسالوں کو دیکھا اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں که در حقیقت مولوی رسل بابا کا رسالہ یقینی اور قطعی طور پر حضرت عیسی کی زندگی ثابت کرتا ہے۔اور جو مخالف کا رسالہ نکلا ہے اس کے جوابات سے اس کے دلائل کی بیخ کنی نہیں ہوئی۔اور اگر میں نے جھوٹ کہا ہے یا میرے دل میں اس کے برخلاف کوئی بات ہے تو میں دعا کرتا ہوں کہ ایک سال کے اندر مجھے جذام ہو جائے یا اندھا ہو جاؤں یا کسی اور بڑے عذاب میں مرجاؤں۔فقط۔تب تمام حاضرین تین مرتبہ بلند آواز سے کہیں۔آمین۔آمین۔آمین۔اور پھر جلسہ برخاست ہو۔پھر اگر ایک سال تک وہ قسم کھانے والا ان تمام بلاؤں محفوظ رہا تو کمیٹی مقر رشد مولوی رسل بابا کا ہزار روپیہ () اس کو عزت کے ساتھ واپس کر دے گی۔تب ہم بھی اقرار شائع کریں گے کہ حقیقت میں مولوی رسل بابا نے حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی ثابت کر دی ہے۔مگر ایک برس تک بہر حال وہ روپیہ کمیٹی مقرر شدہ کے پاس جمع رہے گا اور اگر مولوی رسل بابا صاحب نے اس رسالہ کے شائع ہونے سے دو ہفتہ تک ہزار روپیہ جمع نہ کرا دیا تو اُن کا کذب اور دروغ ثابت ہو جائے گا۔تب بقیہ حاشیہ۔ہیں مسلمان ہیں اور باقی سارا جہان کا فر۔افسوس کہ یہ لوگ کس قد رسخت دل ہو گئے کیسے پردے ان کے دلوں پر پڑ گئے یا الہی ! اس امت پر رحم کر اور ان مولویوں کی شہر سے ان کو بچالے اور اگر یہ ہدایت کے لائق ہیں تو ان کی ہدایت کر ورنہ ان کو زمین پر سے اٹھالے تا زیادہ شر نہ پھیلے اور یہ لوگ در حقیقت مولوی بھی نہیں ہیں تبھی تو ہم نے ان لوگوں کے سرگروہ اور امام الفتن اور استاد شیخ محمد حسین بطالوی کو اپنے رسالہ نورالحق میں مخاطب کر کے کہا ہے کہ اگر اس کو عربیت میں کوئی حصہ نصیب ہے تو اس رسالہ کی نظیر بنا کر پیش کرے اور پانچ ہزار رو پید انعام پاوے مگر شیخ نے اس طرف منہ بھی نہیں کیا حالانکہ شیخ مذکور ان تمام لوگوں کے لئے بطور استاد کے ہے اور اُس کی تحریکوں سے یہ مردے جنبش کر رہے ہیں۔