حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 22
حیات احمد ۲۲ جلد چهارم جب حضرت اقدس نے ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کا اعلان شائع کیا تو اس میں ان کو اور منشی اندر من صاحب مراد آبادی کو دعوت دی تھی۔اس عرصہ میں پنڈت لیکھرام نے نسخہ خبط احمد یہ لکھا۔اور حضرت کے خلاف ایک پیش گوئی شائع کی کہ وہ تین سال کے اندر ہیضہ سے ہلاک ہو جائیں گے وغیرہ۔حضرت اقدس نے ان امور کی طرف توجہ نہ کی اور اس کے فیصلہ کا واقعات حقہ اور شہادتِ آسمانی پر مدار رکھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ پنڈت جی کی پیش گوئی تو غلط ثابت ہوئی اور برخلاف اس کے حضرت اقدس کے سلسلہ کی ترقی ہوتی گئی۔اسی سلسلہ اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں حاشیہ۔اس اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں اپنے قلبی جذبات ہمدردی اور صفائی باطن کا اظہار یوں فرمایا۔ہم بانکسار تمام اپنے موافقین و مخالفین کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ اگر وہ کسی پیش گوئی کو اپنی نسبت ناگوار طبع ( جیسے خبر موت فوت یا کسی اور مصیبت کی نسبت) پاویں تو اس بندہ ناچیز کو معذور تصور فرماویں۔ا بالخصوص وہ صاحب جو باعث مخالفت و مغائرت مذہب اور بوجہ نامحرم اسرار ہونے کے حُسنِ ظن کی طرف بمشکل رجوع کر سکتے ہیں۔جیسے منشی اندر من صاحب مراد آبادی و پنڈت لیکھرام صاحب پشاوری وغیرہ جن کی قضا و قدر کے متعلق غالباً اس رسالے میں بقید وقت و تاریخ کچھ تحریر ہوگا۔اُن صاحبوں کی خدمت میں دلی صدق سے ہم گزارش کرتے ہیں کہ ہمیں فی الحقیقت کسی کی بدخواہی دل میں نہیں بلکہ ہمارا خدا وند کریم خوب جانتا ہے کہ ہم سب کی بھلائی چاہتے ہیں۔اور بدی کی جگہ نیکی کرنے کو مستعد ہیں۔اور بنی نوع کی ہمدردی سے ہمارا سینہ منور و معمور ہے اور سب کے لئے ہم راحت و عافیت کے خواستگار ہیں۔لیکن جو بات کسی موافق یا مخالف کی نسبت یا خود ہماری نسبت کچھ رنجیدہ ہو تو ہم اس میں بکلی مجبور ومعذور ہیں۔ہاں ایسی بات کے دروغ نکلنے کے بعد جو کسی دل کے دکھنے کا موجب ٹھہرے ہم سخت لعن و طعن کے لائق بلکہ سزا کے مستوجب ٹھہریں گے۔ہم قسمیہ بیان کرتے ہیں اور عالم الغیب کو گواہ رکھ کر کہتے ہیں کہ ہمارا سینہ سراسر نیک نیتی سے بھرا ہوا ہے۔اور ہمیں کسی فرد بشر سے عداوت نہیں اور اگر کوئی بدظنی کی راہ سے کیسی ہی بدگوئی و بد زبانی کی مشق کر رہا ہے اور ناخدا ترسی سے ہمیں آزار دے رہا ہے ہم پھر بھی اس کے حق میں دعا ہی کرتے ہیں کہ اے خدائے قادر و توانا اس کو سمجھ بخش اور اس کو اس کے ناپاک خیال اور نا گفتنی باتوں میں معذور سمجھتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ابھی اس کا مادہ ہی ایسا ہے اور ہنوز اس کی سمجھ اور نظر اسی قدر ہے کہ جو حقائق عالیہ تک نہیں پہنچ سکتی۔