حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 305
حیات احمد ۳۰۵ جلد چهارم آں نہ مسلمان بتراز کافرست کش نبود از پئے آں پاک جوش جال شود اندر ره پاکش فدا مژدہ ہمیں است گر آید بگوش سر کہ نہ در پائے عزیزش رود بارگران است کشیدن بدوش اشتہار معیار الاخیار والاشرار بمقابلہ پادری عمادالدین اور دوسرے پادری صاحبوں کے بوعدہ انعام پانچ ہزار روپیه واضح ہو کہ پادری عمادالدین صاحب کا ہمیشہ سے یہ دعویٰ ہے کہ قرآن شریف بلیغ فصیح کلام نہیں ہے۔اور جو کچھ اس پاک کلام میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ اعلیٰ درجہ کے فصاحت بلاغت وغیرہ لوازم دقائق حقائق کی رو سے معجزہ ہے۔یہ بات نعوذ باللہ جھوٹ ہے بلکہ وہ اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ معجزہ کا تو کیا ذکر بلکہ قرآن ادنیٰ بلاغت فصاحت کے درجہ سے بھی گرا ہوا ہے۔چنانچہ آپ آج کل کوئی تفسیر بھی لکھ رہے ہیں۔جس میں انہیں باتوں کا تذکرہ ہوگا۔اور وہ اس میں اپنی علمیت اور سمجھ کے بھروسہ پر دوسرے حملے بھی کریں گے۔پادری صاحب موصوف کی کتابوں کو دیکھنے والے اس بات کی گواہی دے سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنی تحریرات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی کس قدر توہین کی ہے۔کیا کوئی گالی ہے جو نہیں دی؟ کیا کوئی ٹھٹھا ہے جو نہیں کیا؟ کیا کوئی دل آزار کلمہ ہے جو ان کے منہ سے نہیں نکلا۔سب کچھ کیا۔لیکن گورنمنٹ انگریزی کی وفادار رعیت اہل اسلام گورنمنٹ کے منہ کے ترجمہ۔وہ شخص مسلمان نہیں بلکہ کافروں سے بھی بدتر ہے جسے اُس پاک نبی کے لئے غیرت نہ ہو۔اُس کے پاک مذہب پر ہماری جان قربان ہو مبارک بات یہی ہے اگر سننے میں آئے۔وہ سر جو اُس کے مبارک قدموں میں نہ پڑے مفت کا بوجھ ہے جسے کندھوں پر اٹھانا پڑتا ہے۔