حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 304 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 304

حیات احمد ۳۰۴ جلد چهارم سے مضمون کتاب کا سنایا۔پھر فرمایا کہ ہم اس کو اول سے آخر تک پڑھکر کافی جواب لکھیں گے۔پھر فرمایا کہ پادری عمادالدین جو کہتا ہے اسلام میں ولی ہی نہیں ہوا ہے۔اس کو خبر ہی کیا ہے ولی کیسے ہوتے ہیں۔اور کن پر ولایت کا اطلاق آتا ہے۔اب پادری عمادالدین آنکھ کھول کر دیکھے اور نقد دیکھے کہ ولی کیسے ہوتے ہیں۔اور اب تو ولی الاولیا موجود ہے۔یہ کتاب اوائل ۱۸۹۴ء میں ہی آپ کو پہنچ گئی تھی۔اس کو پڑھ لینے کے بعد ۷ار مارچ ۱۸۹۴ء کو متحد یا نہ اعلان شائع کیا۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ السَّمَواتِ العُلى وَالصَّلوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى مُحَمَّدٍ خَيْرَ الرُّسُلِ وَأَفْضَلَ كُلَّمَنْ أُرْسِلَ إِلَى الْوَرى وَاَصْحَابِهِ الطَّيِّبِيْنَ وَالِهِ الطَّاهِرِيْنَ وَكُلَّمَنْ تَبِعَهُ وَاتَّقَى - رہبر ما سید ما مصطفی است آنکه ندیدست نظیرش سروش آنکه خدا مثل رخش نافرید آنکہ رہش مخزن ہر عقل و ہوش دشمن دیں حملہ برو می کند حیف بود گر بنشینم خموش چوں سخن سفله بگوشم رسید در دل من برخاست چو محشر خروش چند توانم کہ شکیب کنم چند کند صبر دل زهر نوش ترجمہ۔مصطفیٰ ہمارا پیشوا اور سردار ہے جس کا ثانی فرشتوں نے بھی نہیں دیکھا۔وہ ایسا ہے کہ خدا نے اُس کے چہرہ جیسا اور کوئی مکھڑا پیدا نہیں کیا اور جس کا طریقہ ہر قسم کی عقل اور دانش کا خزانہ ہے۔دشمن دین اُس پر حملہ کرتا ہے شرم کی بات ہوگی اگر میں خاموش بیٹھا رہوں۔جب کمینہ دشمن کی بات میرے کان میں پہنچی تو میرے دل میں قیامت کا جوش پیدا ہوا۔کب تک میں صبر کرتا رہوں زہر پینے والا دل کب تک صبر کر سکتا ہے۔