حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 297 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 297

حیات احمد ۲۹۷ جلد چهارم اور جس کو چودہویں صدی کا مجد دخیال کرتے تھے جس کے زُہد و ورع پر ناز کرتے تھے ) ان کے ساتھ کیا سلوک کیا اسے بھی ان کی زبانِ قلم سے سنو۔پولیس میں اطلاع دی گئی کہ میں فساد پھیلانے والا ہوں۔وہ۔وہ شخص جو چند ہی روز پہلے شمس الواعظین جناب مولا نا مولوی حسن علی صاحب واعظ اسلام کہلا تا تھا۔صرف حسن علی لیکچرار کے نام سے پکارا جانے لگا۔پہلے واعظوں میں ایک ولی سمجھا جا تا تھا اب مجھ سے بڑھ کر شیطان دوسرا نہ تھا۔جدھر جا تا انگلیاں اٹھتیں۔سلام کرتا جواب نہ ملتا مجھ سے ملاقات کرنے کو لوگ خوف کرتے ہیں ایک خوفناک جانور بن گیا۔جب مدراس میں مسجد میں میرے ہاتھ سے نکل گئیں تو ہندؤں سے پنچا ہال لے کر ایک دن انگریزی میں دوسرے دن اردو میں حضرت اقدس امام الزماں کے حال کو بیان کیا جس کا اثر لوگوں پر پڑا رمضان شریف میں اپنے وطن شہر بھاگل پور میں آیا۔میرے دوست و ہم خیال و ہم مشرب مولوی صاحبوں میں سے ایک صاحب نے مجھ کو خط لکھا کہ تم نے بڑی غلطی کی۔اچھے طور سے مرزا صاحب کے عقائد کی جانچ پڑتال کر کے بیعت کرنی تھی۔تمہاری اس عاجلانہ حرکت سے اہل اسلام کو سخت نقصان پہنچا کیونکہ تمہاری کوششوں سے اہل اسلام کو نفع عظیم پہنچ رہا تھا۔ایک دوسرے مولوی صاحب نے جو براہین احمدیہ وغیرہ دیکھے ہوئے تھے اور حضرت اقدس کو مجددِ زمان مانتے ہیں۔یہ لکھا تھا کہ تم نے مصلحتِ زمانہ کے برخلاف کیا۔صرف جناب مولا نا مولوی حکیم احمد حسین صاحب صوفی نے ہی ایک ایسا خط لکھا کہ پڑھ کر دل کو ٹھنڈک ہوئی۔کہ خیر صوبہ بہار کے عالموں میں ایک بہت بڑے رتبے کا عالم مجھ کو بیوقوف تو نہیں سمجھتا ہے جناب مولوی صاحب کا خط درج ذیل ہے۔فخرا نام واعظ اسلام سَلَّمَهُ اللهُ تَعَالَى السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَعَلَى مَنْ لَدَيْكُمْ مرزا صاحب ایسے رتبہ عالی کے بزرگ ہیں کہ میں ان کے کمتر اور ادنی احوال