حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 268
حیات احمد ۲۶۸ جلد چهارم ہو جائیں گے مسلمان کر لیں گے۔اس قسم کی سازش کر کے آپ کو اور مولوی محرم علی چشتی کو جموں سے نکل جانے کا حکم دے دیا گیا۔آپ نے حضرت اقدس کو اطلاع دی اس کے جواب میں حضرت اقدس نے ۲۶ /اگست ۱۸۹۲ء کو ذیل کا خط لکھا۔مخدومی مکرم اخویم حضرت مولوی صاحب سَلَّمَهُ تَعَالَى السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته کل کی ڈاک میں آنمکرم کا محبت نامہ پہنچ کر بوجہ بشریت اس کے پڑھنے سے ایک حیرت دل پہ طاری ہوئی مگر ساتھ ہی دل پھر کھل گیا۔یہ خداوند حکیم وکریم کی طرف سے ایک ابتلا ہے۔انشاء اللہ القدیر کوئی خوف کی جگہ نہیں اللہ جل شانہ کی پیار کی قسموں میں سے یہ بھی ایک قسم پیار کی ہے کہ اپنے بندے پر کوئی ابتلا نازل کرے۔مجھے تین چار روز ہوئے کہ ایک متوحش خواب آئی تھی جس کی یہ تعبیر تھی کہ ہمارے ایک دوست پر دشمن نے حملہ کیا ہے اور کچھ ضرر پہنچا تا ہے۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ دشمن کا بھی کام تمام ہو گیا۔میں نے رات کو جس قدر آن مکرم کے لئے دعا کی اور جس حالتِ پُرسوز میں دعا کی اس کو خداوند کریم خوب جانتا ہے اور اس پر ابھی بفضلہ تعالی بس نہیں کرتا اور چاہتا ہوں کہ خداوند کریم سے کوئی بات دل کو خوش کرنے والی سنوں۔اگر خدا تعالیٰ نے چاہا تو چند روز تک اطلاع دوں گا۔اور انشاء اللہ القدیر آپ کے لئے دعا کروں گا۔جو کبھی کبھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک یگانہ رفیق کے لئے کی جاتی ہے ہمیں جو ہمارا بادشاہ، ہمارا حاکم ، ذوی الاقتدار، زنده حتی و قیوم موجود ہے جس کے آستانہ پر ہم گرے ہوئے ہیں۔جس قدر اس کی مہر بانیوں ، اس کے فضلوں ، اس کی عجیب قدرتوں، اس کی عنایات خاصہ پر بھروسہ ہے اس کا بیان کرنا غیر ممکن ہے۔دعا کی حالت میں یہ الفاظ منجانب اللہ زبان پر جاری ہوئے